(آیت 22) {يَخْرُجُمِنْهُمَااللُّؤْلُؤُوَالْمَرْجَانُ:} مفسر کیلانی لکھتے ہیں: ”مرجان دراصل جمادات اور نباتات کے درمیان برزخی پیدائش ہے، جس طرح سب موتی پتھروں ہی کی قسم ہوتے ہیں، مرجان بھی پتھر ہی کی قسم ہے، لیکن یہ نباتات کی طرح بڑھتا ہے، جمادات کی طرح جامد نہیں۔ مرجان کا ایک چھوٹا سا پودا ہوتا ہے جس کی شاخیں بھی ہوتی ہیں۔ موتی اور مرجان عموماً کھاری پانی کی پیداوار ہیں، مگر اسی کھاری پانی کے نیچے اللہ کی قدرت سے میٹھے پانی کے چشمے بھی ابل رہے ہوتے ہیں، یا ساتھ ساتھ رواں دواں ہوتے ہیں، اس لیے {”مِنْهُمَا“} کا لفظ ارشاد فرمایا، یعنی یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے حیرت انگیز تخلیقی کارناموں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے۔“ (تیسیر القرآن)مزید دیکھیے سورۂ نحل (۱۴)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22۔ 1 مَرْجَان سے چھوٹے موتی یا پھر مونگے مراد ہیں کہتے ہیں آسمان سے بارش ہوتی ہے تو سیپیاں اپنے منہ کھول دیتی ہیں، جو قطرہ ان کے منہ کے اندر پڑجاتا ہے، وہ موتی بن جاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ ان دونوں دریاؤں سے موتی اور ﴿مرجان﴾[16] نکلتے ہیں
[16] ﴿مرجان﴾ برزخی مخلوق :۔
﴿مرجان﴾ دراصل جمادات اور نباتات کے درمیان برزخی پیدائش ہے جس طرح سب موتی پتھروں ہی کی قسم ہوتے ہیں۔ ﴿مرجان﴾ بھی پتھر ہی کی قسم ہے لیکن یہ نباتات کی طرح بڑھتا ہے جمادات کی طرح جامد نہیں۔ ﴿مرجان﴾ کا ایک چھوٹا سا پودا ہوتا ہے جس کی شاخیں بھی ہوتی ہیں۔ موتی اور ﴿مرجان﴾عموماً کھاری پانی کی پیداوار ہیں۔ مگر اسی کھاری پانی کے نیچے اللہ کی قدرت سے میٹھے پانی کے چشمے بھی ابل رہے ہوتے ہیں۔ یا ساتھ ساتھ دریا رواں ہوتے ہیں۔ اسی لیے منھما کا لفظ ارشاد فرمایا یعنی یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے حیرت انگیز تخلیقی کارناموں کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔