(آیت 12) {وَالْحَبُّذُوالْعَصْفِوَالرَّيْحَانُ: ”الْحَبُّ“} دانے، جیسے گندم، چنے، چاول وغیرہ،یعنی غلّہ جو انسان کی خوراک بنتا ہے۔ {”الْعَصْفِ“} دانوں کے اوپر کا چھلکا، بھوسا، جو جانوروں کی خوراک بنتا ہے، سورۂ فیل میں ہے: «فَجَعَلَهُمْكَعَصْفٍمَّاْكُوْلٍ»[الفیل: ۵]”کھائے ہوئے بھوسے کی طرح۔“ {”الرَّيْحَانُ“} خوشبودار پودے اور پھول جو آدمی کے دماغ کو معطر کرتے ہیں۔ {”فَاكِهَةٌ“} سے وہ پھل مراد ہیں جو صرف لذت کے لیے کھائے جاتے ہیں اور {”النَّخْلُ“} سے وہ پھل مراد ہیں جو لذت اور خوراک دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور {”الْحَبُّ“} سے مراد غلے وغیرہ ہیں جو خوراک کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور {”الرَّيْحَانُ“} سے مراد جو خوشبو کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 حب سے مراد وہ خوراک ہے جو انسان اور جانور کھاتے ہیں۔ خشک ہو کر اس کا پودا بھی بھس بن جاتا ہے جو جانوروں کے کام آتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ اور اناج بھوسی والا اور خوشبو دار [10] پھول بھی
[10] یعنی اناج یا دانے تو انسان کی خوراک بنتے ہیں اور بھوسی جانوروں کی۔ ان کے علاوہ ایسی چیزیں بھی پیدا ہوتی ہیں جو کھانے کے کام نہیں آتیں تاہم ان کی خوشبو وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔