ترجمہ و تفسیر — سورۃ الرحمٰن (55) — آیت 10

وَ الۡاَرۡضَ وَضَعَہَا لِلۡاَنَامِ ﴿ۙ۱۰﴾
اور زمین، اس نے اسے مخلوق کے لیے بچھا دیا۔ En
اور اسی نے خلقت کے لئے زمین بچھائی
En
اور اسی نے مخلوق کے لیے زمین بچھا دی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10){ وَ الْاَرْضَ وَ ضَعَهَا لِلْاَنَامِ: اَلْأَنَامُ} کا معنی ہر جاندار مخلوق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس طرح بنایا اور بچھایا ہے کہ مخلوق کی تمام ضروریات اس سے پوری ہوتی ہیں، ان کا پیدا ہونا، کھاناپینا، پہننا، رہنا سہنا، چلنا پھرنا، زندہ رہنا اور دفن ہونا غرض ہر ضرورت اور ہر سہولت اسی سے وابستہ ہے۔{ اَلْأَنَامُ} کے لفظ میں اگرچہ تمام مخلوق شامل ہے، مگر یہاں اس سے مراد جن و انس ہیں، کیونکہ محاسبہ انھی دو کا ہونا ہے اور آگے انھی پر احسانات کا ذکر ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے زمین کی ہر چیز انسانوں کی خاطر بنائی ہے، فرمایا: «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا» ‏‏‏‏ [البقرۃ:۲۹] وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمھارے لیے پیدا کیا۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا» ‏‏‏‏ [الجاثیۃ: ۱۳] اور اس نے تمھاری خاطر ان تمام چیزوں کو مسخر کر دیا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں۔ زمین کو انسان کے لیے بنانے اور بچھانے کے متعلق دیکھیے سورۂ رعد (۳)، نمل (۶۰، ۶۱)، یٰس (۳۳ تا ۳۵)، حم السجدہ (۹، ۱۰)، زخرف (۹، ۱۰)، جاثیہ (4،3)، ق (8،7)، ملک (۱۵)، مرسلات (26،25)، نبا (۶) اور سورۂ نازعات (۳۰ تا ۳۳)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ اور زمین کو اس نے ساری مخلوق [8] کے لئے بنایا۔
[8] ﴿انام﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿انام﴾ سے مراد ہر وہ جاندار مخلوق ہے جو روئے زمین پر پائی جاتی ہے۔ خواہ وہ چرند ہوں، یا پرند، مویشی ہوں یا درندے، انسان ہوں یا جن، اور ﴿انام﴾ سے مراد انسان اور جن لینا اس لحاظ سے زیادہ مناسب ہے کہ آگے انہیں دو انواع کا ذکر آرہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کا رزق ہم نے زمین سے ہی وابستہ کر دیا ہے۔ یہی ان کی جائے پیدائش، یہی ان کا مسکن اور یہی ان کا مدفن ہے۔
اشتراکی نظریہ کا رد :۔
اس آیت سے اشتراکیت پسند حضرات نے اپنا نظریہ کشید کرنے کی کوشش فرمائی ہے کہ زمین حکومت کو اپنی تحویل میں لے لینی چاہئے۔ پھر وہ تمام افراد کو رزق مہیا کرے۔ اس کے نظریے کے ابطال کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ﴿انام﴾ کے معنی صرف انسان نہیں بلکہ سب جاندار مخلوق ہے۔ پھر اس پر کئی اعتراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ کیا زمین کی تمام پیداوار تقسیم ہو گی یا مصنوعات؟ اور کیا ہر فرد ریاست میں برابر تقسیم ممکن بھی ہے۔ یا نہیں؟ اور آج تو ان لوگوں کا نظریہ عملاً بھی باطل قرار پا چکا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔