اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾
اس بے حد رحم والے نے۔
(خدا جو) نہایت مہربان
رحمٰن نے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس سورت کی فضیلت میں ایک حدیث مشہور ہے: [لِكُلِّ شَيْءٍ عَرُوْسٌ وَ عَرُوْسُ الْقُرْآنِ الرَّحْمٰنُ] ”ہر چیز کا ایک دولہا ہوتا ہے اور قرآن کا دولہا سورۂ رحمن ہے۔“ (عروس کا معنی دولہا بھی ہے اور دلہن بھی) سیوطی نے اسے {” اَلْجَامِعُ الصَّغِيْرُ “} میں {” شُعَبُ الْإِيْمَانِ لِلْبَيْهَقِيْ “} کے حوالے سے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔علامہ البانی نے اسے ضعیف لکھا ہے۔ دیکھیے ضعیف الجامع (۴۷۲۹)۔
(آیت 2،1) ➊ {اَلرَّحْمٰنُ(1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ:} اس سورت کا آغاز اللہ کے مبارک نام {” اَلرَّحْمٰنُ “} کے ساتھ ہوا ہے اور پوری سورت اس کی بے حد و بے حساب رحمت کی تفصیل ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر ہر نعمت کا ذکر کر کے بار بار اپنا احسان یاد دلایا ہے۔ ان نعمتوں میں وہ نعمتیں بھی ہیں جو دنیا میں تمام لوگوں پر کی گئی ہیں اور وہ بھی جو صرف ایمان والوں پر ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی نعمت دین کا ذکر سب سے پہلے فرمایا ہے، کیونکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی اسی پر موقوف ہے اور دین کا مدار قرآن مجید پر ہے، اس لیے فرمایا: «اَلرَّحْمٰنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ» ”اس بے حد رحم والے نے۔ یہ قرآن سکھایا۔“
➋ {” اَلرَّحْمٰنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “} میں نعمت کے بیان کے ساتھ کفار کے اس بہتان کا ردّ بھی ہے کہ «اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ» [النحل: ۱۰۳] یعنی آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کوئی بشر ہی سکھاتا ہے۔ فرمایا، آپ کو سکھلانے والا کوئی بشر یا کوئی اور ہستی نہیں، بلکہ وہ رحمن ہی ہے جس نے آپ کو قرآن سکھایا۔ ابنِ عاشور نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ مسند کو فعل کی صورت میں مسند الیہ کے بعد تخصیص کا فائدہ دینے کے لیے لایا گیا ہے۔ کیونکہ کفار کا کہنا تھا کہ قرآن کسی اور نے آپ کو سکھایا ہے، گویا وہ یہ مان گئے کہ یہ آپ نے خود نہیں بنایا بلکہ کسی اور نے آپ کو سکھایا ہے، مگر وہ یہ نہیں مانتے تھے کہ آپ کو قرآن سکھانے والا اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے فرمایا: ”اس رحمان ہی نے (آپ کو) یہ قرآن سکھایا ہے۔“ {” عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “ ” اَلرَّحْمٰنُ “} مبتدا کی پہلی خبر ہے، اس کے بعد مسلسل تین خبریں ہیں جو حرفِ عطف کے بغیر لائی گئی ہیں۔ ان نعمتوں کے اس انداز میں ذکر کرنے سے جہاں ان نعمتوں کا اظہار ہو رہا ہے وہاں یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ یہ نعمتیں رحمان ہی نے عطا کی ہیں، انھیں عطا کرنے میں کسی اور کا نہ کوئی دخل ہے نہ کسی قسم کی شرکت ہے۔ مشرکین یہاں تک تو مانتے تھے، مگر اس سے لازم آنے والی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ جب یہ سب نعمتیں رحمان ہی کی ہیں تو عبادت بھی اسی کی ہے۔ گویا نعمتوں کے شمار کرنے میں مشرکین کو ان کی غلطی پر تنبیہ اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔
➌ {” عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “} میں {” عَلَّمَ “} کا ایک مفعول {” الْقُرْاٰنَ “} ذکر فرمایا ہے کہ اس رحمن نے یہ قرآن سکھایا، دوسرا مفعول ذکر نہیں فرمایا کہ کسے سکھایا؟ یہ حذف فرما دیا ہے، تاکہ عام رہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا، اس محذوف سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں، مگر بہتر ہے کہ اسے عام رکھا جائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی تعلیم دی، مگر ظاہر ہے کہ آپ کے واسطے سے اور بعد میں قرآن کے معلّمین کے واسطے سے تمام لوگوں کو قرآن کی تعلیم دینے والی اصل ذات گرامی اللہ تعالیٰ کی ہے، وہ تعلیم نہ دے تو نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم دے سکتے ہیں، نہ صحابہ اور نہ ہی بعد کا کوئی معلم۔ اس لیے تعلیمِ قرآن کو خاص اللہ تعالیٰ کی نعمت کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔
➍ اکثر مفسرین نے چونکہ یہاں {” الْقُرْاٰنَ “} سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ قرآن کریم لیا ہے، اس لیے اوپر تفسیر اس کے مطابق کی گئی ہے۔ آیت کے الفاظ میں ایک اور تفسیر کی بھی گنجائش ہے، وہ یہ کہ {” الْقُرْاٰنَ “} کا لفظی معنی {”قِرَاءَةٌ“} (پڑھنا) ہے، جیسا کہ سورۂ قیامہ (۱۸) میں فرمایا: «فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ» ”تو جب ہم اسے پڑھیں تو تو اس کے پڑھنے کی پیروی کر۔“ اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ انسان کو پڑھنے کی تعلیم کی نعمت یاد دلا رہے ہیں، یعنی {” اَلرَّحْمٰنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “} کا معنی ہے:”اس رحمن ہی نے پڑھنا سکھایا۔“ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی سب سے پہلی وحی میں لکھنے کی تعلیم کی نعمت کا ذکر خاص طور پر فرمایا تھا، فرمایا: «اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ (3) الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ» [العلق:۳،۴] ”پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا۔“ تو سورۂ رحمن میں پڑھنے کی تعلیم کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ اس تفسیر کے مطابق یہ نعمت مزید عام ہو جاتی ہے، جس میں قرآن کا پڑھنا بھی شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لکھنا، پڑھنا اور بیان تینوں انسان پر اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ہیں جو اسے جانوروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ انھی کے ذریعے سے وہ دور و نزدیک دوسرے انسانوں سے رابطہ کرتا ہے، وحی الٰہی سے حاصل ہونے والے علوم کو اور انسانی عقل اور تجربے سے حاصل ہونے والے علوم و فنون کو سیکھتا سکھاتا ہے، لکھ کر محفوظ کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کو پہنچاتا ہے۔
(آیت 2،1) ➊ {اَلرَّحْمٰنُ(1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ:} اس سورت کا آغاز اللہ کے مبارک نام {” اَلرَّحْمٰنُ “} کے ساتھ ہوا ہے اور پوری سورت اس کی بے حد و بے حساب رحمت کی تفصیل ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر ہر نعمت کا ذکر کر کے بار بار اپنا احسان یاد دلایا ہے۔ ان نعمتوں میں وہ نعمتیں بھی ہیں جو دنیا میں تمام لوگوں پر کی گئی ہیں اور وہ بھی جو صرف ایمان والوں پر ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی نعمت دین کا ذکر سب سے پہلے فرمایا ہے، کیونکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی اسی پر موقوف ہے اور دین کا مدار قرآن مجید پر ہے، اس لیے فرمایا: «اَلرَّحْمٰنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ» ”اس بے حد رحم والے نے۔ یہ قرآن سکھایا۔“
➋ {” اَلرَّحْمٰنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “} میں نعمت کے بیان کے ساتھ کفار کے اس بہتان کا ردّ بھی ہے کہ «اِنَّمَا يُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ» [النحل: ۱۰۳] یعنی آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کوئی بشر ہی سکھاتا ہے۔ فرمایا، آپ کو سکھلانے والا کوئی بشر یا کوئی اور ہستی نہیں، بلکہ وہ رحمن ہی ہے جس نے آپ کو قرآن سکھایا۔ ابنِ عاشور نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے کہ مسند کو فعل کی صورت میں مسند الیہ کے بعد تخصیص کا فائدہ دینے کے لیے لایا گیا ہے۔ کیونکہ کفار کا کہنا تھا کہ قرآن کسی اور نے آپ کو سکھایا ہے، گویا وہ یہ مان گئے کہ یہ آپ نے خود نہیں بنایا بلکہ کسی اور نے آپ کو سکھایا ہے، مگر وہ یہ نہیں مانتے تھے کہ آپ کو قرآن سکھانے والا اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے فرمایا: ”اس رحمان ہی نے (آپ کو) یہ قرآن سکھایا ہے۔“ {” عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “ ” اَلرَّحْمٰنُ “} مبتدا کی پہلی خبر ہے، اس کے بعد مسلسل تین خبریں ہیں جو حرفِ عطف کے بغیر لائی گئی ہیں۔ ان نعمتوں کے اس انداز میں ذکر کرنے سے جہاں ان نعمتوں کا اظہار ہو رہا ہے وہاں یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ یہ نعمتیں رحمان ہی نے عطا کی ہیں، انھیں عطا کرنے میں کسی اور کا نہ کوئی دخل ہے نہ کسی قسم کی شرکت ہے۔ مشرکین یہاں تک تو مانتے تھے، مگر اس سے لازم آنے والی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ جب یہ سب نعمتیں رحمان ہی کی ہیں تو عبادت بھی اسی کی ہے۔ گویا نعمتوں کے شمار کرنے میں مشرکین کو ان کی غلطی پر تنبیہ اور اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔
➌ {” عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “} میں {” عَلَّمَ “} کا ایک مفعول {” الْقُرْاٰنَ “} ذکر فرمایا ہے کہ اس رحمن نے یہ قرآن سکھایا، دوسرا مفعول ذکر نہیں فرمایا کہ کسے سکھایا؟ یہ حذف فرما دیا ہے، تاکہ عام رہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا، اس محذوف سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں، مگر بہتر ہے کہ اسے عام رکھا جائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی تعلیم دی، مگر ظاہر ہے کہ آپ کے واسطے سے اور بعد میں قرآن کے معلّمین کے واسطے سے تمام لوگوں کو قرآن کی تعلیم دینے والی اصل ذات گرامی اللہ تعالیٰ کی ہے، وہ تعلیم نہ دے تو نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تعلیم دے سکتے ہیں، نہ صحابہ اور نہ ہی بعد کا کوئی معلم۔ اس لیے تعلیمِ قرآن کو خاص اللہ تعالیٰ کی نعمت کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔
➍ اکثر مفسرین نے چونکہ یہاں {” الْقُرْاٰنَ “} سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ قرآن کریم لیا ہے، اس لیے اوپر تفسیر اس کے مطابق کی گئی ہے۔ آیت کے الفاظ میں ایک اور تفسیر کی بھی گنجائش ہے، وہ یہ کہ {” الْقُرْاٰنَ “} کا لفظی معنی {”قِرَاءَةٌ“} (پڑھنا) ہے، جیسا کہ سورۂ قیامہ (۱۸) میں فرمایا: «فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ» ”تو جب ہم اسے پڑھیں تو تو اس کے پڑھنے کی پیروی کر۔“ اس تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ انسان کو پڑھنے کی تعلیم کی نعمت یاد دلا رہے ہیں، یعنی {” اَلرَّحْمٰنُ (1) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ “} کا معنی ہے:”اس رحمن ہی نے پڑھنا سکھایا۔“ یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی سب سے پہلی وحی میں لکھنے کی تعلیم کی نعمت کا ذکر خاص طور پر فرمایا تھا، فرمایا: «اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ (3) الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ» [العلق:۳،۴] ”پڑھ اور تیرا رب ہی سب سے زیادہ کرم والا ہے۔ وہ جس نے قلم کے ساتھ سکھایا۔“ تو سورۂ رحمن میں پڑھنے کی تعلیم کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ اس تفسیر کے مطابق یہ نعمت مزید عام ہو جاتی ہے، جس میں قرآن کا پڑھنا بھی شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لکھنا، پڑھنا اور بیان تینوں انسان پر اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ہیں جو اسے جانوروں سے ممتاز کرتی ہیں۔ انھی کے ذریعے سے وہ دور و نزدیک دوسرے انسانوں سے رابطہ کرتا ہے، وحی الٰہی سے حاصل ہونے والے علوم کو اور انسانی عقل اور تجربے سے حاصل ہونے والے علوم و فنون کو سیکھتا سکھاتا ہے، لکھ کر محفوظ کرتا ہے اور آنے والی نسلوں کو پہنچاتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
رحمٰن نے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ بڑا مہربان ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر سورۂ رحمٰن ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ کا بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اپنے فضل و کرم سے اس کا حفظ کرنا بالکل آسان کر دیا، اسی نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بولنا سکھایا۔
انسان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کی ایک جھلک ٭٭
قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں «بیان» سے مراد خیر و شر ہے لیکن بولنا ہی مراد لینا یہاں بہت اچھا ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے اور ساتھ ہی تعلیم قرآن کا ذکر ہے جس سے مراد تلاوت قرآن ہے اور تلاوت موقوف ہے بولنے کی آسانی پر ہر حرف اپنے مخرج سے بےتکلف زبان ادا کرتی رہتی ہے، خواہ حلق سے نکلتا ہو، خواہ دونوں ہونٹوں کے ملانے سے مختلف مخرج اور مختلف قسم کے حروف کی ادائیگی اللہ تعالیٰ نے انسان کو سکھا دی «لاَ الشَّمْسُ يَنبَغِى لَهَآ أَن تدْرِكَ القَمَرَ وَلاَ الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-یس:40] سورج اور چاند ایک دوسرے کے پیچھے اپنے اپنے مقررہ حساب کے مطابق گردش میں ہیں، نہ ان میں اختلاف ہو، نہ اضطراب، نہ یہ آگے بڑھے، نہ وہ اس پر غالب آئے ہر ایک اپنی اپنی جگہ تیرتا پھرتا ہے۔
اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم]
اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔
بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم»
قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] الخ، ’ کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘۔
اور جگہ فرمایا ہے «فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» [6-الانعام:96] الخ، اللہ صبح کو نکالنے والا ہے اور اسی نے رات کو تمہارے لیے آرام کا وقت بنایا ہے اور سورج چاند کو حساب پر رکھا ہے یہ مقررہ محور غالب و دانا اللہ کا طے کردہ ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمام انسانوں، جنات، چوپایوں، پرندوں کی آنکھوں کی بصارت ایک ہی شخص کی آنکھوں میں سمودی جائے پھر بھی سورج کے سامنے جو ستر پردے ہیں ان میں سے ایک پردہ ہٹا دیا جائے تو ناممکن ہے کہ یہ شخص پھر بھی اس کی طرف دیکھ سکے باوجود یہ کہ سورج کا نور اللہ کی کرسی کے نور کا سترواں حصہ ہے اور کرسی کا نور عرش کے نور کا سترواں حصہ ہے اور عرش کے نور کے جو پردے اللہ کے سامنے ہیں اس کے ایک پردے کے نور کا سترواں حصہ ہے پس خیال کر لو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جنتی بندوں کی آنکھوں میں کس قدر نور دے رکھا ہو گا کہ وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے چہرے کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے بےروک دیکھیں گے [ابن ابی حاتم]
اس پر تو مفسرین کا اتفاق ہے کہ «شجر» اس درخت کو کہتے ہیں جو تنے والا ہوʻ لیکن «نجم» کے معنی کئی ایک ہیں بعض تو کہتے ہیں «نجم» سے مراد بیلیں ہیں جن کا تنہ نہیں ہوتا اور زمین پر پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔
بعض کہتے ہیں مراد اس سے ستارے ہیں جو آسمان میں ہیں۔ یہی قول زیادہ ظاہر ہے، گو اول قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا اختیار کردہ ہے۔ «واللہ اعلم»
قرآن کریم کی یہ آیت بھی اس دوسرے قول کی تائید کرتی ہے۔ فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّـهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَكَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَن يُهِنِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّكْرِمٍ إِنَّ اللَّـهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ» [22-الحج:18] الخ، ’ کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ اللہ کے سامنے سجده میں ہیں سب آسمانوں والے اور سب زمینوں والے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان بھی۔ ہاں بہت سے وه بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ﺛابت ہو چکا ہے، جسے رب ذلیل کردے اسے کوئی عزت دینے واﻻ نہیں، اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ‘۔