وَ لَقَدۡ اَہۡلَکۡنَاۤ اَشۡیَاعَکُمۡ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۵۱﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھارے جیسی کئی جماعتوں کو ہلاک کر ڈالا، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ؟
En
اور ہم تمہارے ہم مذہبوں کو ہلاک کرچکے ہیں تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟
En
اور ہم نے تم جیسے بہتیروں کو ہلاک کر دیا ہے، پس کوئی ہے نصیحت لینے واﻻ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 51) {وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَاۤ اَشْيَاعَكُمْ …:} قیامت پر قادر ہونے کا ایک نمونہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ قسم ہے کہ ہم نے تمھارے جیسی کئی جماعتوں مثلاً عاد و ثمود وغیرہ کو ہلاک کر ڈالا۔ وہ بھی یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھے کہ ان پر عذاب آ سکتا ہے، مگر جب عذاب آیا تو اچانک آیا۔ ایسے ہی قیامت بھی اچانک آئے گی، تو کیا ہے کوئی جو اپنے جیسے ان گروہوں سے عبرت حاصل کرے اور قیامت کی تیاری کرے؟ یہاں پھر التفات ہے، یعنی مشرکین کو مخاطب فرما لیا ہے، کیونکہ مقصود ڈانٹنا ہے۔ {”أَشْيَاعٌ“ ”شِيْعَةٌ“} کی جمع ہے، ایک جیسا عقیدہ رکھنے والی جماعت کے لوگ جو ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوں۔ یہاں {” اَشْيَاعَكُمْ “} کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بھی کفر و شرک میں تمھارے جیسے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
51۔ 1 یعنی گذشتہ امتوں کے کافروں کو، جو کفر میں تمہارے ہی جیسے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ اور تمہارے جیسی تو بہت سی قوموں [36] کو ہم ہلاک کر چکے ہیں پھر کیا ہے کوئی نصیحت ماننے والا؟
[36] اشیاع کا لغوی مفہوم :۔
اشیاع شیعہ کی جمع ہے اور شیعہ کے معنی پارٹی، دھڑا، سیاسی فرقہ ہے یعنی وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے ارد گرد پھیلے رہتے ہیں۔ یعنی کسی شخص کے پیروکار اور مددگار۔ ایسی پارٹی یا دھڑے کی بنیاد عموماً عقیدہ کا اختلاف ہوتا ہے۔ اور شیعہ کی جمع شیعا بھی آتی ہے اور وہ انہی معنوں میں آتی ہے اور اشیاع بھی آتی ہے اور اس سے مراد ایک ہی جیسی عادات و اطوار رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ خواہ وہ پہلے گزر چکے ہوں یا موجود ہوں۔ ہم جنس لوگ۔ اس آیت میں یہ لفظ انہیں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
ہم نے تم جیسوں کو تم سے پہلے ان کی سرکشی کے باعث فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے پھر تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ان کے عذاب اور ان کی رسوائی کے واقعات میں کیا تمہارے لیے نصیحت و تذکیر نہیں؟
جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] یعنی ’ ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا ‘۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ }۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں { ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔“
جیسے اور آیت میں فرمایا «وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُّرِيبٍ» [34-سورةسبا:54] یعنی ’ ان کے اور ان کی چاہ کے درمیان پردہ ڈال دیا گیا ہے جیسے کہ ہم نے ان جیسے پہلے والوں کے ساتھ کیا تھا ‘۔ جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان کے نامہ اعمال میں مکتوب ہے جو اللہ کے امین فرشتوں کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔ ان کا ہر چھوٹا بڑا عمل جمع شدہ ہے اور لکھا ہوا ہے۔ ایک بھی تو ایسا نہیں رہا جو تحریر میں رہ گیا ہو۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”صغیرہ گناہ کو بھی ہلکا نہ سمجھو، اللہ عزوجل کی طرف سے اس کا بھی مطالبہ پورا ہونے والا ہے“ }۔ [سنن ابن ماجہ:4242،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سلیمان بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں { ایک مرتبہ مجھ سے ایک گناہ سرزد ہو گیا جسے میں نے حقیر سمجھا، رات کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک آنے والا آیا ہے اور مجھ سے کہہ رہا ہے، اے سلیمان! «لا تحقرن من الذنوب صغیرا ان الصغیر غدا یعود کبیرا ان الصغیر ولو تقادم عھدہ عند اللہ مسطر تسطیرا فازجر ھواک عندالبطالتہ لا تکن صعب القیاد وشمرن تشمیرا ان للحب اذا احب الھہ طار الفواد والھم التفکیر فاسال ہدایتک الا لہ فتئد فکفی بربک ھادیا ونصیرا» یعنی ”صغیرہ گناہوں کو بھی حقیر اور ناچیز نہ سمجھ، یہ صغیرہ کل کبیرہ ہو جائیں گے، گو گناہ چھوٹے چھوٹے ہوں اور انہیں کئے ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہو۔ اللہ کے پاس وہ صاف صاف لکھے ہوئے موجود ہیں، بدی سے اپنے نفس کو روکے رکھ اور ایسا نہ ہو جا کہ مشکل سے نیکی کی طرف آئے، بلکہ اونچا دامن کر کے بھلائی کی طرف لپک، جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی محبت کرتا ہے تو اس کا دل اڑنے لگتا ہے اور اسے اللہ کی جانب سے غور و فکر کی عادت الہام ہو جاتی ہے اپنے رب سے ہدایت طلب کر اور نرمی اور ملائمت کر، ہدایت اور نصرت کرنے والا رب تجھے کافی ہو گا۔“
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان بدکاروں کے خلاف نیک کار لوگوں کی حالت ہو گی وہ تو ضلالت و تکلیف میں تھے اور اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے گئے اور سخت ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، لیکن یہ نیک کار جنتوں میں ہوں گے بہتے ہوئے خوشگوار صاف شفاف چشموں کے مالک ہوں گے اور عزت و کرام، رضوان و فضیلت، جود و احسان، فضل و امتنان، نعمت و رحمت آسائش و راحت کے مکان میں خوش خوش رہیں گے باری تعالیٰ مالک و قادر کا قرب انہیں نصیب ہو گا، جو تمام چیزوں کا خالق ہے، سب کے انداز مقرر کرنے والا ہے، ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ ان پرہیزگار رحم دل لوگوں کی ایک ایک خواہش پوری کرے گا، ایک ایک چاہت عطا فرمائے گا۔
مسند احمد میں { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ }۔ [صحیح مسلم:1827]
«الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔
مسند احمد میں { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”عدل و انصاف کرنے والے نیک کردار لوگ اللہ کے پاس نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے، اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے ہی ہیں، یہ عادل لوگ وہ ہیں، جو اپنے احکام میں اپنے اہل و عیال میں اور جو چیز ان کے قبضے میں ہو، اس میں اللہ تعالٰی کے فرمان کے خلاف نہیں کرتے بلکہ عدل و انصاف سے ہی کام لیتے ہیں“ }۔ [صحیح مسلم:1827]
«الحمداللہ» اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سورۃ اقتربت کی تفسیر بھی ختم ہوئی اللہ ہمیں نیک توفیق دے اور برائیوں سے بچائے۔