(آیت 50) ➊ {وَمَاۤاَمْرُنَاۤاِلَّاوَاحِدَةٌكَلَمْحٍۭبِالْبَصَرِ:} یعنی بے شک قیامت بہت بڑی چیز ہے، جس کی ہیبت سے آسمان و زمین لرزتے ہیں، جیساکہ فرمایا: «ثَقُلَتْفِيالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ» [الأعراف: ۱۸۷]”وہ آسمانوں اور زمین میں بھاری واقع ہوئی ہے۔“ مگر یہ مت سمجھو کہ ہمارے لیے اس کا قائم کرناکچھ دشوار ہے، یا ہم لانا چاہیں تو اس کے آنے میں دیر ہو جائے گی، ہمارا تو صرف ایک حکم ہوتا ہے اور آنکھ جھپکنے میں کام ہو جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اِنَّمَااَمْرُهٗۤاِذَاۤاَرَادَشَيْـًٔااَنْيَّقُوْلَلَهٗكُنْفَيَكُوْنُ»[یٰس: ۸۲]”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی ہے۔ “ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۷۷)۔ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ {”وَمَاۤاَمْرُنَاۤ“} کے بعد {”إِلَّاوَاحِدٌ“} ہونا چاہیے تھا، {”وَاحِدَةٌ“} کیوں فرمایا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے مراد {”كَلِمَةٌوَاحِدَةٌ“} ہے، یعنی ہمارا حکم صرف ایک کلمۂ {”كُنْ“} ہوتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ اور ہمارا حکم بس ایک ہی دفعہ کہنے پر اتنی جلدی ظہور پذیر [35] ہو جاتا ہے جیسے آنکھ کی جھپک
[35] یعنی جس طرح جنین کی رحم مادر میں پرورش پانے کی مدت اللہ کے ہاں مقرر ہے، اگرچہ اس میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے تاہم ہر ایک جنین کی مدت الگ الگ اللہ کے ہاں مقرر ہے۔ اسی طرح ہر ایک کی موت کی مدت بھی مقرر ہے اور قیامت کے قائم ہونے کی بھی۔ اگرچہ اللہ کے سوا کوئی بھی انہیں جان نہیں سکتا۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جب وہ مدت پوری ہو چکتی ہے تو اللہ کے حکم کے مطابق وہ فوراً ظہور پذیر ہو جاتی ہے اور اس میں ایک لمحہ کی بھی تقدیم و تاخیر نہیں ہو سکتی۔ قیامت کا بھی یہی حال ہے جب اللہ کا حکم ہو گا پلک جھپکنے سے بھی پہلے وہ واقع ہو جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔