(آیت 44) {اَمْيَقُوْلُوْنَنَحْنُجَمِيْعٌمُّنْتَصِرٌ:} یہاں{”جَمِيْعٌ“”كُلٌّ“} (تمام)کے معنی میں نہیں بلکہ ”یاء“ کے اضافے کے ساتھ {”جَمْعٌ“} کے معنی میں ہے، مضبوط جماعت۔ {”اِنْتَصَرَيَنْتَصِرُاِنْتِصَارًا“} ظالم سے بچاؤ کرنا، دشمن سے انتقام لینا، مدِ مقابل پر غالب آنا۔ یا پھر ان کا کہنا یہ ہے کہ نہ ہم پہلوں سے بہتر ہیں اور نہ کسی کتاب میں ہمارے عذاب سے محفوظ رہنے کی کوئی بات موجود ہے، مگر ہم ایک مضبوط جماعت ہیں جو اپنا بچاؤ کر سکتے ہیں، بدلا بھی لے سکتے ہیں اور مدِ مقابل پر غالب بھی آ سکتے ہیں، اس لیے ہمیں کوئی خوف نہیں۔ آیت میں التفات ہے، یعنی پچھلی آیت {”اَكُفَّارُكُمْخَيْرٌ“} میں خطاب کا صیغہ ہے اور یہاں غائب کے صیغے کے ساتھ ان کا ذکر ہے، مراد ان کی تحقیر ہے کہ ایسی ڈینگیں مارنے والے خطاب کے قابل نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
44۔ 1 تعداد کی کثرت اور وسائل قوت کی وجہ سے، ہم دشمن سے انتقام لینے پر قادر ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک انتقام لے لینے والی جماعت ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔