(آیت 43) ➊ { اَكُفَّارُكُمْخَيْرٌمِّنْاُولٰٓىِٕكُمْ:} یہ خطاب قریش کے لوگوں سے ہے کہ ان اقوام پر کفر و تکذیب کے نتیجے میں یہ عذاب آئے، اگر تم کفر اختیار کرو گے تو کیا تم میں سے کفر کرنے والے کسی بھی لحاظ سے ان سے بہتر ہیں کہ ان پر عذاب نہیں آئے گا؟ استفہام انکاری ہے، یعنی ایسا نہیں ہے۔ قریش کے علاوہ قیامت تک کے تمام لوگ بھی اس کے مخاطب ہیں، کیونکہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتِ دعوت ہیں۔ ➋ {اَمْلَكُمْبَرَآءَةٌفِيالزُّبُرِ:} یا پہلی آسمانی کتابوں میں تمھارے متعلق لکھا ہوا ہے کہ تم جو چاہو کرو، تم پر پہلی قوموں کی طرح عذاب نہیں آئیں گے؟ ظاہر ہے ایسا بھی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
43۔ 1 یہ استفہام انکار یعنی نفی کے لئے ہے، یعنی اے اہل عرب! تمہارے کافر، گذشتہ کافروں سے بہتر نہیں ہیں، جب وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہلاک کردیئے گئے، تو تم جب کہ تم ان سے بدتر ہو، عذاب سے سلامتی کی امید کیوں رکھتے ہو
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
43۔ (اے اہل مکہ!) کیا تمہارے کافر ان لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لئے آسمانی کتابوں میں نجات لکھ [30] دی گئی ہے؟
[30] اے مکہ کے کافرو! اب تم بتاؤ کیا تم ان لوگوں سے زیادہ طاقتور ہو یا شان و شوکت رکھتے ہو؟ پھر اگر وہ لوگ ہمارے عذاب سے نہیں بچ سکے تو تم کیسے بچ جاؤ گے؟ یا ہم نے کسی آسمانی کتاب میں یا صحیفہ میں تمہارے حق میں یہ لکھ دیا ہے کہ تم دنیا میں جو چاہو کرتے پھرو ہم تم سے تعرض نہیں کریں گے۔ نہ ہی تمہیں کوئی سزا دیں گے اگر کوئی ایسی بات ہے تو دکھا دو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔