(آیت 38){ وَلَقَدْصَبَّحَهُمْبُكْرَةًعَذَابٌمُّسْتَقِرٌّ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۸۲، ۸۳) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
38۔ 1 یعنی صبح ان پر نازل ہونے والا عذاب آگیا، جو انہیں ہلاک کئے بغیر نہ چھوڑے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
38۔ اور صبح سویرے ہی انہیں ایک نہ ٹلنے والے [28] عذاب نے آگھیرا
[28] پھر دوسرے دن صبح کے وقت ان پر جو بڑا عذاب آیا اس کی تفصیل پہلے کئی مقامات پر گزر چکی ہے۔ پہلے اس پورے خطہ زمین کو جبریلؑ نے اپنے پروں پر اٹھایا اور بلندی پر لے جا کر پھر الٹا کر زمین پر دے مارا۔ جس سے یہ خطہ زمین میں دھنس گیا۔ اوپر سے پتھروں کی بارش ہوئی۔ پھر اس دھنسے ہوئے خطہ زمین پر سمندر کا پانی چڑھ آیا جو متعفن اور بدبو دار ہو گیا۔ اس طرح اس قوم کے نام و نشان کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔