(آیت 37) {وَلَقَدْرَاوَدُوْهُعَنْضَيْفِهٖ …: ”رَاوَدُوْهُ“} باب مفاعلہ سے ہے۔ {”مُرَاوَدَةٌ“} نرمی اور ملائمت سے باربار مطالبہ کرنا، پھسلانا، بہکانا، فریب سے غلط کام پر آمادہ کرنا۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں مبالغہ کے لیے ہے۔ {”ضَيْفِهٖ“} سے مراد فرشتے ہیں جو خوبصورت لڑکوں کی شکل میں مہمان بن کر آئے تھے۔ قوم کو ان کے آنے کا علم ہوا تو انھوں نے لوط علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ انھیں ان کے حوالے کر دیں۔ {”رَاوَدُوْهُ“} کے لفظ سے ظاہر ہے کہ انھوں نے لوط علیہ السلام پر دھوکے، فریب، بہکانے، پھسلانے، دھونس اور دھاندلی کا ہر طریقہ آزمایا کہ کسی طرح ہی وہ دھوکے میں آ کر انھیں ان کے حوالے کر دیں۔ وہ لوگ جو اس مقصد کے لیے آئے تھے جب حد سے بڑھ گئے اور ان لڑکوں کو زبردستی چھیننے کے لیے گھر میں داخل ہونے لگے اور لوط علیہ السلام سخت گھبرا گئے تو فرشتوں نے بتایا کہ ہم آپ کے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں، یہ لوگ آپ تک کسی صورت نہیں پہنچ سکیں گے۔ (دیکھیے ہود: 81،80) اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھیں مٹا دیں، انھیں اندھا کر دیا کہ بڑا عذاب آنے سے پہلے میرے اس عذاب اور میری تنبیہ کا مزا چکھو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 یا بہلایا یا مانگا لوط ؑ سے ان کے مہمانوں کو۔ مطلب یہ ہے کہ جب لوط ؑ کی قوم کو معلوم ہوا کہ چند خوبرو نوجوان لوط ؑ کے ہاں آئے ہیں۔ (جو دراصل فرشتے تھے اور انکو عذاب دینے کے لیے آئے تھے) تو انہوں نے حضرت لوط ؑ سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم اپنے بگڑے ہوئے ذوق کی ان سے تسکین کریں۔ (2) کہتے ہیں کہ یہ فرشتے جبرائیل میکائیل اور اسرافیل (علیہم السلام) تھے۔ جب انہوں نے بدفعلی کی نیت سے فرشتوں (مہمانو) کو لینے پر زیادہ اصرار کیا تو جبرائیل ؑ نے اپنے پر کا ایک حصہ انہیں مارا، جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے ہی باہر نکل آئے، بعض کہتے ہیں، صرف آنکھوں کی بصارت زائل ہوئی، بہرحال عذاب عام سے پہلے یہ عذاب خاص ان لوگوں کو پہنچا جو حضرت لوط ؑ کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ اور آنکھوں سے یا بینائی سے محروم ہو کر گھر پہنچے۔ اور صبح اس عذاب عام میں تباہ ہوگئے جو پوری قوم کے لئے آیا۔ (تفسیر ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ اور ان سے ان کے مہمانوں کا مطالبہ کرنے لگے تو ہم نے ان کی آنکھوں کو بے نور [27] بنا دیا (اور کہا) اب میرے عذاب اور میری تنبیہ کا مزا چکھو
[27] عذاب کی نوعیت :۔
ان پر عذاب ڈھانے کے لیے تین فرشتے نہایت خوبصورت نوجوان بے ریش لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ انہیں دیکھ کر سیدنا لوطؑ سخت پریشان ہو گئے اور ڈر گئے کہ اس بد کار قوم سے ان مہمانوں کی آبرو کو کیسے بچا سکیں۔ اتنے میں بیوی صاحبہ نے آس پاس کے مشٹنڈوں کو مخبری کر دی کہ بہت اچھا مال گھر میں آیا ہے۔ وہ لوگ اوپر سے ہی آپ کے گھر میں گھس آئے۔ سیدنا لوطؑ نے ان بد بختوں کی بہت منت سماجت کی کہ وہ اپنے برے ارادہ سے باز آجائیں کہ مجھے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کریں۔ جب فرشتوں نے یہ صورت حال دیکھی تو سیدنا لوطؑ کو علیحدہ لے جا کر صورت حال بتا دی کہ تمہیں ڈرنے اور منت سماجت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں جو اس قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ پھر جب یہ اوباش اپنی خواہش جنسی پوری کرنے کے لیے ان لڑکوں کی طرف بڑھے تو ان میں سے ایک فرشتے نے ان کی آنکھوں پر ہاتھ پھیر دیا۔ جس سے ان کی بینائی جاتی رہی اور وہ چیخیں مار کر واپس دوڑنے لگے اور نظر نہ آنے کی وجہ سے دروازہ کی طرف بڑھتے ہوئے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔ یہ ان پر پہلا اور ہلکا عذاب تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔