(آیت 31) ➊ { اِنَّاۤاَرْسَلْنَاعَلَيْهِمْصَيْحَةًوَّاحِدَةً:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اعراف (۷۸) کی تفسیر۔ ➋ { فَكَانُوْاكَهَشِيْمِالْمُحْتَظِرِ: ”هَشَمَيَهْشِمُهَشْمًا“ (ض) ”اَلشَّيءَ“} کسی چیز کو توڑ کر اور کچل کر ریزہ ریزہ کر دینا۔ {”هَشِيْمٌ“} روندی، کچلی ہوئی۔ {”حَظِيْرَةٌ“} باڑ کو کہتے ہیں جو جانوروں کے ارد گرد ٹہنیوں وغیرہ کے ساتھ بنائی جاتی ہے۔ اور{”الْمُحْتَظِرِ“} باڑ بنانے والا۔باڑ کے پتے اور ٹہنیاں جو خشک ہو کر ٹوٹتی اور نیچے گرتی ہیں اور جانوروں کے پاؤں کے نیچے آکر کچلی اور روندی جاتی ہیں اور چورا بن جاتی ہیں انھیں {”هَشِيْمٌ“} کہا جاتا ہے۔ قومِ ثمود کا عذاب کے ساتھ جو حال ہوا اسے ان پتوں اور ٹہنیوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو باڑ سے گر کر جانوروں کے پاؤں میں آ کر چورا بن جاتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
31۔ 1 باڑ جو خشک جھاڑیوں اور لکڑیوں سے جانوروں کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہے، خشک لکڑیاں اور جھاڑیاں مسلسل روندے جانے کی وجہ سے چورا چورا ہوجاتی ہیں وہ بھی اس باڑ کی ماند ہمارے عذاب سے چورا ہوگئے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
31۔ ہم نے ان پر ایک ہی گرج دار آواز بھیجی تو وہ یوں ہو گئے جیسے کسی باڑ لگانے والے کی سوکھی [24] اور ٹوٹی ہوئی باڑ ہو
[24] چیخ کا عذاب :۔
یہ لوگ چیخ یا گرج دار آواز سے ہلاک کیے گئے۔ فرشتے نے ایک چیخ ماری جس سے ان کے کلیجے پھٹ گئے۔ اور مر کر ایک دوسرے پر گرنے لگے اور اس طرح ایک دوسرے سے روندے جانے لگے جیسے کسی کھیت کے گرد لگی ہوئی باڑ چند روز میں پامال ہو کر چورا چورا بن جاتی ہے۔ یہی ان لوگوں کا حال ہوا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔