اس آیت کی تفسیر آیت 25 میں تا آیت 27 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
26۔ 1 یہ خود، پیغمبر پر الزام تراشی کرنے والے۔ یا حضرت صالح علیہ السلام، جن کو اللہ نے وحی و رسالت سے نوازا۔ غَدًا یعنی کل سے مراد قیامت کا دن یا دنیا میں ان کے لئے عذاب کا مقررہ دن۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
26۔ یہ لوگ کل ہی جان [21] لیں گے کہ کذاب اور ڈینگیں مارنے والا کون تھا؟
[21] کل سے مراد ان پر عذاب کا دن بھی ہو سکتا ہے اور قیامت کا دن بھی اور بہت جلد بھی یعنی یہ حقیقت جلد ہی واضح ہو جائے گی کہ اصل میں جھوٹا اور بڑیں مارنے والا کون تھا۔ صالحؑ یا انہیں جھٹلانے والے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔