(آیت 20) {تَنْزِعُالنَّاسَكَاَنَّهُمْاَعْجَازُنَخْلٍمُّنْقَعِرٍ: ”نَزِعَيَنْزَعُنَزْعًا“} (ع) {”اَلشَّيْءَمِنْمَّكَانِهٖ“} کسی چیز کو اس کی جگہ سے اکھاڑ پھینکنا۔ {”مُنْقَعِرٍ“”قَعْرٌ“} (گہرائی) سے ہے، اکھڑا ہوا۔ مزید دیکھیے سورۂ حاقہ(۷) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ وہ لوگوں کو یوں اکھاڑ اکھاڑ کر پھینک رہی [19] تھی جیسے جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجوروں کے درخت کی جڑیں ہوں
[19] قوم عاد اور اس کا انجام :۔
یہ عذاب انتہائی تیز رفتار آندھی کی شکل میں تھا اور یہ ہوا نہایت ٹھنڈی تھی جو ان کے گھروں میں گھس جاتی تھی۔ درختوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہی تھی اور قوم کے قدو قامت، ڈیل ڈول اور مضبوط اور طاقتور جسم والے لوگوں کو بھی پاؤں سے اکھاڑ کر زمین پر پٹخ دیتی تھی۔ جس سے ان کی گردنیں ٹوٹ جاتی تھیں اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی کھجوروں کے جڑ سے اکھڑے ہوئے درخت ہی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔