ذُوۡ مِرَّۃٍ ؕ فَاسۡتَوٰی ۙ﴿۶﴾
جو بڑی طاقت والا ہے، سو وہ بلند ہوا۔
En
(یعنی جبرائیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے
En
جو زور آور ہے پھر وه سیدھا کھڑا ہو گیا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 6تا9) ➊ {ذُوْ مِرَّةٍ:} طاقت، توانائی اور مضبوطی والا۔ {” مِرَّةٍ “} کا لفظ اصل میں رسی کو بٹنے اور بل دے کر مضبوط کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی طاقت والا“ کیا گیا ہے۔ اس طاقت میں عملی اور علمی دونوں طاقتیں شامل ہیں۔ {” شَدِيْدُ الْقُوٰى “} کے بعد {” ذُوْ مِرَّةٍ “} کے ساتھ ان کی طاقت اور توانائی کو مزید اجاگر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے {” شَدِيْدُ الْقُوٰى “} سے عملی قوتیں اور {” ذُوْ مِرَّةٍ “} سے علمی اور عقلی قوتیں مراد لی ہیں، مگر دونوں لفظ ہر قسم کی قوتوں پر استعمال ہوتے ہیں، اس لیے تاکید مراد لینا راجح معلوم ہوتا ہے۔
➋ {” فَاسْتَوٰى “} برابر ہوا، بلند ہوا۔ ”اُفق“ دور سے نظر آنے والی وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے نظر آتے ہیں اور آسمان نیلے گنبد کی طرح بلند ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ”اُفقِ اعلی “ مشرقی کنارا، جہاں سے سورج طلوع کے وقت بلند ہوتا ہے۔ اسی کو دوسری جگہ {”اَلْأُفُقُ الْمُبِيْنُ“} فرمایا، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ» [التکویر: ۲۳] ”اور بلاشبہ یقینا اس نے اس (جبریل) کو (آسمان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔“
➌ { فَتَدَلّٰى:} یہ {”دَلْوٌ“} سے مشتق ہے، سورۂ یوسف میں ہے: «فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ» [یوسف: ۱۹] ”تو اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔“ {”تَدَلّٰي“} لٹک آیا، یعنی فضا میں رہتے ہوئے کچھ نیچے آ گیا۔ {” قَابَ “} مقدار۔ {” اَوْ اَدْنٰى “} یا زیادہ قریب۔ یعنی اگر آدمی اس فاصلے کو دیکھے تو اسے یہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم نظر آئے۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا، یہاں {” اَوْ “ ” بَلْ “} کے معنی میں ہے، یعنی دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم، جیسا کہ یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ» [الصافات: ۱۴۷] ”اور ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا، بلکہ وہ زیادہ ہوں گے۔“
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں جبریل علیہ السلام کو دو بار ان کی اصل صورت میں دیکھا ہے۔ ان آیات میں پہلی بار دیکھنے کا ذکر ہے، جبریل علیہ السلام آسمان کے مشرقی کنارے پر نمودار ہوئے، تو زمین و آسمان کا درمیانی فاصلہ ان سے پُر ہو گیا، جیسا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما نے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ (پہلی وحی کے بعد) وحی کے وقفے کے متعلق بیان فرما رہے تھے: [فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِيْ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِّنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِيْ قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِيْ جَاءَنِيْ بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلٰی كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ حَتّٰی هَوَيْتُ إِلَی الْأَرْضِ فَجِئْتُ أَهْلِيْ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِيْ زَمِّلُوْنِيْ فَزَمَّلُوْنِيْ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰی: «يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَاَنْذِرْ» إِلٰی «فَاهْجُرْ» ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ وَ تَتَابَعَ] [بخاري، التفسیر، سورۃ المدثر، باب: «والرجز فاہجر» : ۴۹۲۶] ”ایک دفعہ میں چلا جا رہا تھا، اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی تو میں نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، تو میں اس سے ڈر گیا، یہاں تک کہ میں زمین پر گر گیا، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا، مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو، تو انھوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَاَنْذِرْ(2) وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ(3) وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ(4) وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ» پھر وحی گرما گرم ہو گئی اور پے در پے آنے لگی۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھنے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے: [حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ زِرًّا عَنْ عَبْد ِاللّٰهِ «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (9) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى» قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مَسْعُوْدٍ أَنَّهُ رَاٰی جِبْرِيْلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ] [بخاري، التفسیر، سورۃ النجم، باب: «فکان قاب قوسین أو أدنی» : ۴۸۵۶] ”زِرّ (بن حُبیش) نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (9) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى» کی تفسیر روایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ “ ان آیات کا مقصد کفار کے اس الزام کی تردید ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے کہ کوئی عجمی آدمی اسے قرآن کی باتیں سکھا جاتا ہے اور یہ ہمیں سنا کر کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ کسی عجمی شخص نے نہیں، بلکہ ایک نہایت مضبوط قوتوں اور بڑی طاقت والے فرشتے نے اسے اس قرآن کی تعلیم دی ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ شدید القویٰ فرشتہ مشرقی اُفق پر بلند ہوا، اس وقت وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، پھر وہ فضا ہی میں نیچے اترتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہوا کہ آپ سے دو کمانوں سے بھی کم فاصلے پر آگیا۔
➋ {” فَاسْتَوٰى “} برابر ہوا، بلند ہوا۔ ”اُفق“ دور سے نظر آنے والی وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے نظر آتے ہیں اور آسمان نیلے گنبد کی طرح بلند ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ”اُفقِ اعلی “ مشرقی کنارا، جہاں سے سورج طلوع کے وقت بلند ہوتا ہے۔ اسی کو دوسری جگہ {”اَلْأُفُقُ الْمُبِيْنُ“} فرمایا، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ» [التکویر: ۲۳] ”اور بلاشبہ یقینا اس نے اس (جبریل) کو (آسمان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔“
➌ { فَتَدَلّٰى:} یہ {”دَلْوٌ“} سے مشتق ہے، سورۂ یوسف میں ہے: «فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ» [یوسف: ۱۹] ”تو اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔“ {”تَدَلّٰي“} لٹک آیا، یعنی فضا میں رہتے ہوئے کچھ نیچے آ گیا۔ {” قَابَ “} مقدار۔ {” اَوْ اَدْنٰى “} یا زیادہ قریب۔ یعنی اگر آدمی اس فاصلے کو دیکھے تو اسے یہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم نظر آئے۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا، یہاں {” اَوْ “ ” بَلْ “} کے معنی میں ہے، یعنی دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم، جیسا کہ یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ» [الصافات: ۱۴۷] ”اور ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا، بلکہ وہ زیادہ ہوں گے۔“
➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں جبریل علیہ السلام کو دو بار ان کی اصل صورت میں دیکھا ہے۔ ان آیات میں پہلی بار دیکھنے کا ذکر ہے، جبریل علیہ السلام آسمان کے مشرقی کنارے پر نمودار ہوئے، تو زمین و آسمان کا درمیانی فاصلہ ان سے پُر ہو گیا، جیسا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما نے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ (پہلی وحی کے بعد) وحی کے وقفے کے متعلق بیان فرما رہے تھے: [فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِيْ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِّنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِيْ قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِيْ جَاءَنِيْ بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلٰی كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ حَتّٰی هَوَيْتُ إِلَی الْأَرْضِ فَجِئْتُ أَهْلِيْ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِيْ زَمِّلُوْنِيْ فَزَمَّلُوْنِيْ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰی: «يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَاَنْذِرْ» إِلٰی «فَاهْجُرْ» ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ وَ تَتَابَعَ] [بخاري، التفسیر، سورۃ المدثر، باب: «والرجز فاہجر» : ۴۹۲۶] ”ایک دفعہ میں چلا جا رہا تھا، اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی تو میں نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، تو میں اس سے ڈر گیا، یہاں تک کہ میں زمین پر گر گیا، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا، مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو، تو انھوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَاَنْذِرْ(2) وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ(3) وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ(4) وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ» پھر وحی گرما گرم ہو گئی اور پے در پے آنے لگی۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھنے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے: [حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ زِرًّا عَنْ عَبْد ِاللّٰهِ «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (9) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى» قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مَسْعُوْدٍ أَنَّهُ رَاٰی جِبْرِيْلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ] [بخاري، التفسیر، سورۃ النجم، باب: «فکان قاب قوسین أو أدنی» : ۴۸۵۶] ”زِرّ (بن حُبیش) نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (9) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى» کی تفسیر روایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ “ ان آیات کا مقصد کفار کے اس الزام کی تردید ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے کہ کوئی عجمی آدمی اسے قرآن کی باتیں سکھا جاتا ہے اور یہ ہمیں سنا کر کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ کسی عجمی شخص نے نہیں، بلکہ ایک نہایت مضبوط قوتوں اور بڑی طاقت والے فرشتے نے اسے اس قرآن کی تعلیم دی ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ شدید القویٰ فرشتہ مشرقی اُفق پر بلند ہوا، اس وقت وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، پھر وہ فضا ہی میں نیچے اترتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہوا کہ آپ سے دو کمانوں سے بھی کم فاصلے پر آگیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ جو بڑا زور آور ہے وہ سامنے آکھڑا ہوا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تعارف جبرائیل امین علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معلم جبرائیل علیہ السلام ہیں۔‘ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ» ۱؎ [81-التكوير:19-21] ’ یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے۔
‘ یہاں بھی فرمایا ’ وہ قوت والا ہے۔ ‘ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔“ } ۱؎ [سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح]
’ پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے ‘ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ’ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔‘
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] کا۔ [ضعیف]
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔
‘ یہاں بھی فرمایا ’ وہ قوت والا ہے۔ ‘ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔“ } ۱؎ [سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح]
’ پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے ‘ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ’ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔‘
ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] کا۔ [ضعیف]
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لیے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبرائیل علیہ السلام اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اس کے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔
یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ ۱؎ [فتح الباری:360/12]
لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔
مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔
یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ ۱؎ [فتح الباری:360/12]
لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔
مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو۔
اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔} ۱؎ [مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف]
اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔} ۱؎ [مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف]
مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد، موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔} ۱؎ [مسند احمد:322/1:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔} ۱؎ [مسند احمد:322/1:ضعیف]
ابن عساکر میں ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا: سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد! جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آ گیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور باربار گستاخی سے پیش آتا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لیے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے۔
یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟
ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔
یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔۱؎ [مستدرک حاکم:539/2:صحیح]
یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟
ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔
یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔۱؎ [مستدرک حاکم:539/2:صحیح]