(آیت 59) {اَفَمِنْهٰذَاالْحَدِيْثِتَعْجَبُوْنَ: ”هٰذَاالْحَدِيْثِ“} سے مرادرسولوں کو جھٹلانے والی اقوام کے عبرتناک انجام کی اور قیامت قریب ہونے کی بات ہے جو ابھی بیان ہوئی ہے۔ فرمایا بھلا یہ کوئی انوکھی اور ناقابلِ یقین بات ہے جس پر تم تعجب کر رہے ہو؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
59۔ 1 بات سے مراد قرآن کریم ہے، یعنی اس سے تم تعجب کرتے اور اس کا مذاق کرتے ہو، حالانکہ اس میں نہ تعجب والی کوئی بات ہے نہ مذاق اور جھٹلانے والی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
59۔ کیا تم اس بات [42] سے تعجب کرتے ہو؟
[42] یعنی تم تعجب تو ایسے کرتے ہو جیسے دوبارہ مر کر جی اٹھنے کی بات آج پہلی بار سنی ہے۔ حالانکہ تمام انبیاء یہی بات کہتے آئے ہیں۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ تم اپنے انجام سے ڈر جاتے اور اللہ کے خوف سے رونے لگتے۔ مگر تم اس کے برعکس ان باتوں کا مذاق اڑاتے ہو اور انجام سے غافل رہ کر کھیل کود میں وقت گزار رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔