ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 58

لَیۡسَ لَہَا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ ﴿ؕ۵۸﴾
جسے اللہ کے سوا کوئی ہٹانے والا نہیں۔ En
اس (دن کی تکلیفوں) کو خدا کے سوا کوئی دور نہیں کرسکے گا
En
اللہ کے سوا اس کا (وقت معین پر کھول) دکھانے واﻻ اور کوئی نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 58){ لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌ: كَاشِفَةٌ } میں تاء مبالغہ کی بھی ہو سکتی ہے اور تانیث کی بھی، تانیث کی ہو تو یہ{ نَفْسٌ} کی صفت ہے۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اللہ کے سوا کوئی اسے ہٹانے والا نہیں، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ» [الأنعام: ۱۷] اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں۔ دوسرا یہ کہ اللہ کے سوا اسے کوئی کھولنے والا یعنی اس کا وقت جاننے اور بتانے والا نہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ» ‏‏‏‏ [الأعراف: ۱۸۷] کہہ دے اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے، اسے اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی ظاہر نہیں کرے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

58۔ اللہ کے سوا کوئی اسے ہٹانے والا نہیں [41]
[41] یعنی جب قیامت یا موت آگئی تو نہ تم اسے روک سکو گے اور نہ تمہارے معبود۔ اللہ اسے روک تو سکتا ہے مگر وہی تو لانے والا ہے ہٹائے گا کیوں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔