مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 43

وَ اَنَّہٗ ہُوَ اَضۡحَکَ وَ اَبۡکٰی ﴿ۙ۴۳﴾
اور یہ کہ حقیقت یہ ہے کہ اسی نے ہنسایا اور رلایا۔
اور یہ کہ وہ ہنساتا اور رلاتا ہے
اور یہ کہ وہی ہنساتا ہے اور وہی رﻻتا ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 43تا49) ➊ { وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰى …:} اس سے پچھلی آیات میں ان معاملات کا ذکر تھا جو انسان کے اختیار میں ہیں، اختیار کے باوجود ان میں انسان کی کوتاہی ایک مسلّم امر ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗ» ‏‏‏‏ [عبس: ۲۳] ہرگز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔ پھر کسی کے پاس اپنے تزکیے کی کیا گنجائش ہے؟ اب ان معاملات کا ذکر ہے جن میں انسان کا کچھ اختیار نہیں، مثلاً ہنسانا، رلانا، مارنا، جلانا (زندہ کرنا)، ایک نطفہ سے کسی کو مرد اور کسی کو عورت بنا دینا، مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دینا، غنی کر دینا، خزانے بخش دینا، مشرکین جن ستاروں کو پوجتے ہیں ان سب کا، خصوصاً شعریٰ کا رب ہونا اور بڑی بڑی قوت والی قوموں کو نافرمانی پر ہلاک کر دینا، یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ پھر جب انسان اس قادر مطلق کے سامنے اتنا بے بس ہے کہ اس کا رونا، ہنسنا اور مرنا جینا بھی اس کے اختیار میں نہیں اور نہ ہی اسے اگلے لمحے تک کی خبر ہے کہ اسے ہنسنا ہے یا رونا، جینا ہے یا مرنا، تو وہ اپنا تزکیہ کس منہ سے کرتا ہے؟
➋ { وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰى …: اَقْنٰى قِنْيَةٌ} سے ہے جس کا معنی خزانہ ہے۔ یعنی اسی نے جمع کرنے اور خزانہ بنانے کے لیے مال عطا فرمایا۔ آیت: «‏‏‏‏وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰى» ‏‏‏‏ اور یہ آیت: «‏‏‏‏وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰى» دونوں میں { اَنَّهٗ } کے بعد { هُوَ } ضمیر سے حصر پیدا ہو رہا ہے، یعنی وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا …۔
➌ { وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى:} ہر چیز کا رب ہونے کے باوجود اس ستارے کا رب ہونے کا خاص طور پر ذکر اس لیے فرمایا کہ بعض عرب مثلاً خزاعہ وغیرہ اس کی پرستش کرتے تھے، اس لیے فرمایا کہ تم جس ستارے کی پرستش کرتے ہو تمھاری قسمتیں اس کے اختیار میں نہیں، وہ تو خود اپنی قسمت کا مالک نہیں، بلکہ اس کا رب بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

43۔ اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رلاتا [31] ہے
[31] یعنی ہر شخص کا رنج و راحت، مسرت اور غم وغیرہ دونوں طرح کے ظاہری اور باطنی اسباب اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ وہ ہر شخص کی قسمت کو اتفاقاً بھی اور تدریجاً بھی بدل دینے کی قدرت رکھتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

سب کی آخری منزل اللہ تعالٰی ادراک سے بلند ہے ٭٭
فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا: اے بنی اود! میں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے، پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ۔
بغوی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف]‏‏‏‏
جیسے اور حدیث میں ہے { مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو، اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پا سکتا۔ } ۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف]‏‏‏‏ گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں، مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے، اس میں ہے کہ { شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3276]‏‏‏‏
سنن کی ایک حدیث میں ہے { مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو، سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:134]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت و حیات کا خالق ہے۔
جیسے فرمایا «الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ» ۱؎ [67-الملک:2]‏‏‏‏ ’ اس نے موت و حیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا ‘۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔