(آیت 40) {وَاَنَّسَعْيَهٗسَوْفَيُرٰى: ”يُرٰى“”رَأَييَرٰيرُؤْيَةً“} (ف) سے بھی فعل مجہول ہو سکتا ہے (اس کی کوشش دیکھی جائے گی) اور {”أَرٰييُرِيْإِرَائَةً“} (افعال) سے بھی(اس کی کوشش اس کو دکھائی جائے گی)۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل(14،13) اور سورۂ کہف (۴۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40۔ 1 یعنی دنیا میں اس نے اچھا یا برا جو بھی کیا، چھپ کر کیا یا اعلانیہ کیا، قیامت والے دن سامنے آجائے گا اور اس پر اسے پوری جزا دی جائے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ اور یہ کہ اس کی کوشش، جلد [29] ہی دیکھی جائے گی
[29] معذور لوگوں کے متعلق اشتراکی نظریہ :۔
یعنی جو کام اس نے خود دنیوی زندگی میں سرانجام دیئے اور جن کاموں کے اثرات چھوڑے سب اس کی سعی میں داخل ہیں اور ان سب کو اعمال کی ترازو میں رکھ کر دیکھا جائے گا۔ بعض کمیونسٹ ذہن کے لوگ ﴿وَاَنْلَّيْسَلِلْاِنْسَانِاِلَّامَاسَعٰي﴾ اس مادی دنیا پر منطبق کر کے اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ بوڑھے اور معذور قسم کے لوگ جو کوئی محنت کر ہی نہیں سکتے ان کو مار کر ختم کر دینا چاہئے تاکہ وہ معاشرہ پر معاشی بوجھ نہ بنیں۔ جب وہ کما ہی نہیں سکتے تو انہیں کچھ ملنا بھی نہیں چاہیے۔ ظاہر ہے یہ مطلب سیاق و سباق سے قطع نظر کر کے لیا گیا ہے۔ نیز یہ نظریہ اسلام کے نظام صدقات و زکوٰۃ کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام ایسے معذور اور نادار لوگوں کی بھرپور امداد کر کے انہیں زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ لہٰذا اشتراکیوں کا یہ نظریہ اسلامی نکتہ نگاہ سے باطل، لغو اور فساد فی الارض کے مترادف ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔