مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 36

اَمۡ لَمۡ یُنَبَّاۡ بِمَا فِیۡ صُحُفِ مُوۡسٰی ﴿ۙ۳۶﴾
یا اسے اس بات کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔
کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی
کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 37،36) ➊ { اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى …:} یعنی اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور اس کے پاس علمِ غیب بھی نہیں تو کیا پہلے انبیاء کی کتابوں میں جو بنیادی اصول لکھے ہیں وہ بھی کسی نے اسے نہیں بتائے؟ ان انبیاء میں سے ابراہیم اور موسیٰ علیھما السلام کا خاص طور پر ذکر اس لیے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر چلنے کا وہ دعویٰ رکھتے تھے اور ابراہیم علیہ السلام کے بعد احکام کی بنیادی کتاب موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی تورات ہی تھی جس پر بعد کے تمام انبیاء عمل کرتے تھے اور جو اس وقت بھی موجود تھی اور قریش یہودیوں سے اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔
➋ { وَ اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤى: وَفّٰۤى } جس نے پورا کیا، یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کیا پورا کیا، تاکہ وہ عام رہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اور بندوں سے کیا ہوا ہر عہد پورا کیا۔ (دیکھیے توبہ: ۱۱۴) اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا اسے پورا کیا اور جن باتوں کے ساتھ امتحان لیا سب پوری کر دکھائیں۔(دیکھیے بقرۃ: ۱۲۴) { الَّذِيْ وَفّٰۤى } (جس نے پورا کیا) پر مفسر ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں: میرے خیال میں { الَّذِيْ } موصول دونوں میں سے ہر ایک کی صفت ہے۔ (واللہ اعلم) { أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا } یعنی ابراہیم اور موسیٰ علیھما السلام میں سے ہر ایک نے عہد پورا کیا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ کیا اسے ان باتوں کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔