مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 35

اَعِنۡدَہٗ عِلۡمُ الۡغَیۡبِ فَہُوَ یَرٰی ﴿۳۵﴾
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے؟ پس وہ دیکھ رہا ہے۔
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے
کیا اسے علم غیب ہے کہ وه (سب کچھ) دیکھ رہا ہے؟

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35){ اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى:} یعنی یہ شخص ایمان سے منہ موڑنے اور اس تمام تر بخل اور کنجوسی کے باوجود جو اپنے آپ کو پاک قرار دے رہا ہے اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہنے اور وہاں کی نعمتوں کے حق دار ہونے کا جو گمان اس نے کر رکھا ہے، کیا اس کے پاس علمِ غیب کی دوربین (آلہ) ہے جس کے ساتھ وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

35۔ 1 یعنی کیا وہ دیکھ رہا ہے کہ اس نے فی سبیل اللہ خرچ کیا تو اس کا مال ختم ہوجائے گا؟ نہیں، غیب کا یہ علم اس کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ خرچ کرنے سے گریز محض بخل، دنیا کی محبت اور آخرت پر عدم یقین کی وجہ سے کر رہا ہے اور اطاعت الٰہی سے انحراف کی وجوہات بھی یہی ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ وہ (سب کچھ) دیکھ [26] رہا ہو۔
[26] اس سے مراد ولید بن مغیرہ بھی ہو سکتا ہے اور اس کا مشرک ساتھی بھی۔ آخرت کے متعلق ان دونوں کا علم نہایت ناقص اور ظن و قیاس پر مبنی تھا۔ لیکن دونوں نے معاہدہ اس انداز سے کر لیا جیسا وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور آخرت کے احوال سے پوری طرح واقف ہو چکے ہیں۔ ولید بن مغیرہ کا علم تو اس لحاظ سے ناقص تھا کہ اس نے یہ سمجھا کہ جیسے دنیا میں مال وغیرہ دے کر کسی مصیبت سے انسان بچ سکتا ہے اور مال لینے والا دینے والے کی مصیبت اپنے سر مول لے لیتا ہے ویسے آخرت کا معاملہ بھی ہو گا اور اس کا مشرک ساتھی اس کی بلا اپنے سر لے لے گا اور مشرک ساتھی نے اس بنا پر وعدہ کیا تھا کہ وہ آخرت کا قطعی طور پر منکر تھا اسے اگر یقین تھا تو صرف اس بات کا تھا کہ ہونا ہوانا تو کچھ ہے نہیں جو مال ملتا ہے اسے کیوں چھوڑیں۔ یا ممکن ہے وہ بھی آخرت کے بارے میں مشکوک ہو اور جزا و سزا کے معاملہ میں ایسا ہی گمان رکھتا ہو جیسے ولید بن مغیرہ کا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔