ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 19

اَفَرَءَیۡتُمُ اللّٰتَ وَ الۡعُزّٰی ﴿ۙ۱۹﴾
پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔ En
بھلا تم لوگوں نے لات اور عزیٰ کو دیکھا
En
کیا تم نے ﻻت اور عزیٰ کو دیکھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19تا21) ➊ { اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰى …:} گزشتہ آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صراطِ مستقیم پر استقامت اور آپ کی ہر بات اللہ تعالیٰ کی وحی پر موقوف ہونے کا ذکر ہوا، اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دینے والے فرشتے کی قوت و عظمت کا ذکر ہوا، اس کے زمین پر اور آسمانوں پر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس نزول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل قریب آ کر وحی پہنچانے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے اور اللہ تعالیٰ کی دوسری بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھنے کا ذکر ہوا۔ ان سب باتوں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت، اس کا جلال اور اس کی وحدانیت خود بخود ظاہر ہو رہی ہے کہ جب اس کے رسول کا، فرشتوں کا اور اس کی زمین و آسمان پر بے شمار نشانیوں کی عظمت کا یہ عالم ہے تو وہ خود کتنی قدرتوں کا مالک ہو گا۔ اس لیے ساتھ ہی اپنی توحید کی طرف توجہ دلانے اور مشرکین کو ان کی حماقت پر متنبہ کرنے کے لیے فرمایا کہ جب تم میری قدرتوں کو سن اور دیکھ چکے تو پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو بھی دیکھا ہے؟ کیا سوچا بھی جا سکتا ہے کہ یہ معبود ہیں یا اس عظیم الشان کائنات میں ان کا کوئی دخل ہے؟ یہ اندازِ بیان ان بتوں کی انتہائی تحقیر اور ان پر طنز کا اظہار ہے، جیسے کوئی انتہائی کمزور اور ہاتھ پاؤں سے معذور شخص بادشاہ ہونے کا دعویٰ کر دے تو سبھی کہیں گے، اسے دیکھو یہ بادشاہ سلامت ہے۔
➋ طبری نے فرمایا: مشرکین نے اپنے بتوں اور آستانوں کے نام اللہ تعالیٰ کے ناموں کی مؤنث بنا کر رکھے ہوئے تھے۔ چنانچہ انھوں نے لفظ {اَللّٰهُ} کے ساتھ تائے تانیث ملا کر {اَللَّاتُ} بنا لیا، جیسے {عَمْرٌو} مذکر کے لیے {عَمْرَةٌ} مؤنث اور {عَبَّاسٌ} مذکر کے لیے {عَبَّاسَةٌ} مؤنث بنا لیتے ہیں اور {عَزِيْزٌ} سے {عُزّٰي} بنا لیا (جو {أَعَزُّ} اسم تفضیل کی مؤنث ہے)۔ یہاں ایک سوال ہے کہ لفظ {اَللّٰهُ} کا مؤنث {اَللَّاتُ} کیسے بن گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ {اَللّٰهُ} اصل میں {اَلْإِلٰهُ} ہے، مؤنث اس کا {اَلْإِلٰهَةُ} بنے گا، مگر انھوں نے تخفیف کے لیے اسے {اَللَّاتُ} بنا لیا اور معلوم ہے کہ تخفیف کا کوئی طے شدہ قاعدہ نہیں۔ شیخ عبدالرحمن سعدی لکھتے ہیں: {مَنَاةٌ مَنَّانٌ} کی مؤنث بنا لی گئی ہے۔ ظاہر ہے یہاں بھی تخفیف کا قاعدہ ہی استعمال ہوا ہے۔
طبری نے فرمایا: مشرکین نے اپنے اوثان کے نام اللہ تعالیٰ کے ناموں کی مؤنث بنا کر رکھے ہوئے تھے اور دعویٰ یہ کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ (اللہ تعالیٰ ان کے اس بہتان سے بہت بلند ہے) تو اللہ جل ثناء ہ نے انھیں مخاطب کر کے فرمایا کہ لات و عزیٰ اور تیسرے ایک اور منات کو اللہ کی بیٹیاں کہنے والو! { اَلَكُمُ الذَّكَرُ } کیا تم اپنے لیے اولاد لڑکے پسند اور لڑکیاں ناپسند کرتے ہو اور { وَ لَهُ الْاُنْثٰى } اس کے لیے لڑکیاں قرار دیتے ہو، جنھیں اپنے لیے کسی صورت پسند نہیں کرتے، بلکہ ان سے اتنی شدید نفرت رکھتے ہو کہ انھیں زندہ درگور کر دیتے ہو۔
➌ { اللّٰتَ } کی قراء ت میں اختلاف ہے۔ اکثر قراء اسے تاء کی تشدید کے بغیر پڑھتے ہیں، اس مفہوم کے مطابق جس کا اوپر ذکر ہوا ہے اور بعض اسے {اَللاَّتُّ} (تاء کی تشدید کے ساتھ) پڑھتے ہیں، جو {لَتَّ يَلُتُّ} (ن) سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی بلونا اور لت پت کرنا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [كَانَ اللاَّتُ رَجُلاً يَلُتُّ سَوِيْقَ الْحَاجِّ] [بخاري، التفسیر، سورۃ النجم: ۴۸۵۹] لات ایک مرد تھا جو ستو بلو کر حاجیوں کو پلاتا تھا۔ پہلی قراء ت اس لیے راجح ہے کہ اکثر قراء نے ایسے ہی پڑھا ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو اس بات پر جھڑکا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری قراءت کے مطابق لات ایک مرد تھا۔ لات کے مؤنث ہونے کی ایک دلیل صحیح بخاری (۲۷۳۱، ۲۷۳۲) میں مذکور صلح حدیبیہ والی طویل حدیث ہے، جس میں ہے کہ جب کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو نے کہا کہ تم مختلف لوگ اکٹھے ہو گئے ہو، جنگ ہوئی تو بھاگ جاؤ گے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [اُمْصُصْ بَظْرَ اللاَّتِ أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ] لات کی شرم گاہ کو چوس، کیا ہم آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ واضح رہے {بَظْرٌ} عورت کی شرم گاہ کو کہا جاتا ہے۔
➍ عرب میں بتوں کے بے شمار آستانے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ان تین کا ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ ان کے سب سے مشہور اور بڑے بت تھے۔ مکہ، طائف، مدینہ اور حجاز کے اکثر علاقوں کے لوگ انھیں سب سے زیادہ پوجتے تھے۔ لات طائف میں تھا، بنو ثقیف اس کے پجاری اور متولی تھے۔ عزیٰ قریش کی خاص دیوی تھی جس کا اَستھان مکہ اور طائف کے درمیان مقام نخلہ پر تھا۔ وہاں عمارت کے علاوہ درخت بھی تھے جن کی پوجا ہوتی تھی۔ قریش کے ہاں اس کی تعظیم کا اندازہ صحیح بخاری کی اس حدیث سے ہوتا ہے جس میں ہے کہ جنگِ اُحد کے موقع پر جب کفار مسلمانوں کو کچھ نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوئے تو پہاڑ پر چڑھ کر ابو سفیان نے فخر سے کہا: { لَنَا الْعُزّٰی وَلاَ عُزّٰی لَكُمْ} (ہمارے پاس عزیٰ ہے، تمھارے پاس کوئی عزیٰ نہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسے جواب دو: [اَللّٰهُ مَوْلاَنَا وَلاَ مَوْلٰی لَكُمْ] اللہ ہمارا مولیٰ ہے، تمھارا کوئی مولیٰ نہیں۔ [بخاري، الجہاد والسیر، باب ما یکرہ من التنازع…: ۳۰۳۹] منات کا مندر مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے مشلل کے قریب قدید کے مقام پر تھا۔ [دیکھیے بخاري، التفسیر، سورۃ النجم: ۴۸۶۱] مدینہ کے اوس و خزرج اور ان کے ہمنوا اس کی پوجا کرتے تھے۔ ان تمام بتوں کے مندر تھے اور ان کے باقاعدہ پروہت اور پجاری بھی تھے۔ کعبہ کی طرح ان پر بھی جانور لا کر قربان کیے جاتے تھے۔ ابن کثیر نے اس مقام پر سیرت ابن اسحاق سے عرب کے بتوں کا تذکرہ تفصیل سے نقل کیا ہے کہ وہ کہاں کہاں تھے، ان کی شکل کیا تھی اور کون کون سے صحابہ نے انھیں منہدم کیا۔ یہ تفصیل ان کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
➎ {وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى:} یہاں ایک سوال ہے کہ { الثَّالِثَةَ } (تیسرا) کہنے کے بعد { الْاُخْرٰى } (ایک اور یا بعد والا) کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ مشرکین کے ہاں بتوں اور دیویوں کے بھی درجے ہیں، لات اور عزیٰ کو جو مقام حاصل تھا وہ منات کو حاصل نہ تھا۔ اس کا تذکرہ ان الفاظ میں یہ ظاہر کرنے کے لیے فرمایا کہ اس کا نمبر تمھارے ہاں بھی تیسرا اور دونوں کے بعد ہے۔ یہ بھی شرک پر بہت بڑی چوٹ ہے کہ وہ معبود ہی کیا ہوا جو دوسرے معبود کو برداشت کرتا ہے اور متعدد معبود اپنی اپنی حیثیت پر قناعت کرتے اور خوش رہتے ہیں، بھلا معبود برحق ایسا ہونا چاہیے؟ ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کے بتوں میں بھی یہ تقسیم موجود تھی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ» [الأنبیاء: ۵۸] پس اس نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان کے ایک بڑے کے۔
➏ اس مقام پر بعض مفسرین نے ایک روایت بیان کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر پہنچے تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلمات جاری کر دیے: {تِلْكَ الْغَرَانِيْقُ الْعُلٰي وَ إِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجٰي} اس روایت کی حقیقت کے لیے دیکھیے سورۂ حج کی آیت (۵۲) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ کیا بھلا تم نے لات و عزیٰ (دیویوں) پر بھی غور کیا؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بت کدے کیا تھے؟ ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔
«لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11]‏‏‏‏ گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔
اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا { اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3039]‏‏‏‏
صحیح بخاری میں ہے { جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4860]‏‏‏‏
مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔
{ سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4861]‏‏‏‏ اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔
ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔
سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:83/1]‏‏‏‏
اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر یا عزیٰ، یا عزیٰ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عزیٰ یہی تھی۔ ۱؎ [سنن نسائی:567:حسن]‏‏‏‏
«لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔
«مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔
«ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا
«فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔
قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔
ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔
«ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟‘ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو ‘۔