ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 32

اَمۡ تَاۡمُرُہُمۡ اَحۡلَامُہُمۡ بِہٰذَاۤ اَمۡ ہُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ ﴿ۚ۳۲﴾
یا انھیںان کی عقلیں اس بات کا حکم دیتی ہیں، یا وہ خود ہی حد سے گزرنے والے لوگ ہیں؟ En
کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں۔ بلکہ یہ لوگ ہیں ہی شریر
En
کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں؟ یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32) {اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ …: أَحْلَامٌ حِلْمٌ} کی جمع ہے، جو دراصل غصہ بھڑکنے کے وقت ضبطِ نفس کو کہتے ہیں۔ عقل کو {حلم} اس لیے کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں وہی طبیعت پر ضبط کا باعث ہوتی ہے۔ مشرکین اپنے آپ کو بڑا عقل مند باور کرواتے تھے، اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ان کی تین باتیں ذکر فرمائیں، کاہن، مجنون اور شاعر، پھر ان کی عقلوں پر چوٹ فرمائی کہ کیا کوئی عاقل ایسی بات کہہ سکتا ہے؟ اوّل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اور آپ کا لایا ہوا قرآن سب کے سامنے ہے، کوئی شخص جس کی عقل قائم ہو وہ آپ کے متعلق یا قرآن کے متعلق ان میں سے کوئی بات بھی نہیں کہہ سکتا، کیونکہ قرآن کریم کا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کہانت، جنون یا شعر کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو باتیں کہہ رہے ہیں وہ آپس میں اتنی متضاد ہیں کہ ایک شخص میں جمع ہو ہی نہیں سکتیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص شاعر بھی ہو، کاہن بھی اور پھر پاگل بھی اور اس کا پیش کیا ہوا کلام شعر بھی ہو، کہانت بھی اور دیوانگی بھی؟ پھر یہ کون سی عقل مندی ہے کہ کسی شاعر یا کاہن یا دیوانے سے اتنے شدید خوف زدہ ہو جاؤ کہ کسی کو اس کی بات نہ سننے دو؟ بھلا آج تک کسی شاعر، کاہن یا دیوانے کی اتنی شدید مخالفت کی گئی ہے جتنی یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کر رہے ہیں۔ فرمایا، کیا ان کی عقلیں انھیں اس کا حکم دیتی ہیں؟ جواب ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ وہ خود بخود ظاہر ہے کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ان کی عقلوں کا فیصلہ نہیں بلکہ بات کچھ اور ہے اور وہ یہ ہے کہ دراصل یہ سرکش لوگ ہیں اور ان کی سرکشی انھیں حق قبول نہیں کرنے دیتی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

32۔ 1 یعنی یہ تیرے بارے میں جو اناپ شناپ جھوٹ اور غلط سلط باتیں کرتے رہتے ہیں، کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سجھاتی ہیں۔ 32۔ 2 نہیں بلکہ یہ سرکش اور گمراہ لوگ ہیں، اور یہی سرکشی اور گمراہی انہیں ان باتوں پر بڑھکاتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ کیا ان کی عقلیں ہی انہیں ایسی باتیں کرنے کا حکم دیتی [25] ہیں یا پھر یہ لوگ ہیں ہی سرکش۔
[25] قریش مکہ کا حقیقت حال سے پوری طرح واقف ہونا :۔
آپ کی زندگی بھر کی پاکیزہ سیرت اور کردار ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ لہٰذا وہ جو کچھ الزامات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگا رہے ہیں خود ان کی عقلیں ان چیزوں کو تسلیم کرنے سے ابا کرتی ہیں۔ چنانچہ سرداران قریش اپنی نجی محفلوں میں متعدد بار اس بات کا اعتراف کر چکے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ شاعر ہیں نہ کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں اور نہ دیوانہ ہیں۔ وہ دل سے یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اللہ کے رسول اور قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے لیکن اگر وہ اس بات کا اعتراف کر لیتے تو خود مرتے تھے۔ ان کی سرداریاں ختم ہوتی تھیں اور انہیں رسول کا تابع فرمان بن کر رہنا پڑتا تھا اور یہ باتیں انہیں کسی قیمت پر گوارا نہ تھیں۔ لہٰذا خوئے بدرا بہانہ بسیار، کے مصداق آپ پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کرتے اور ایسے غیر معقول القابات سے پکارتے تھے۔ پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ انہوں نے کبھی کسی شاعر، کسی کاہن، کسی جادوگر یا کسی مجنوں کی اس طرح مخالفت نہیں کی۔ جس طرح آپ کی کر رہے ہیں؟ نہ کسی شاعر، کسی کاہن، کسی جادوگر یا مجنوں کا کلام سننے پر ایسی پابندی لگائی ہے جس طرح کی پابندی یہ قرآن سنانے، سننے اور بلند آواز سے پڑھنے پر لگا رہے ہیں؟ انہیں کسی شاعر، کسی کاہن، کسی جادوگر یا کسی مجنوں سے ایسا خطرہ کیوں لاحق نہیں ہوتا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہیں لاحق ہے؟ یہ سب باتیں اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ وہ دل سے یہ جان چکے ہیں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول اور قرآن اللہ کا کلام ہے۔ ان کی عقلیں صحیح حکم لگاتی ہیں لیکن ان کی سرکش طبیعتیں انہیں راہ حق کی طرف آنے میں مزاحم ہو رہی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔