ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 31

قُلۡ تَرَبَّصُوۡا فَاِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُتَرَبِّصِیۡنَ ﴿ؕ۳۱﴾
کہہ دے انتظار کرو، پس بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔ En
کہہ دو کہ انتظار کئے جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
En
کہہ دیجئے! تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) {قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ:} اس کا یہ مطلب نہیں کہ انتظار کر کے دیکھ لو، تم ہی مرو گے میں نہیں مروں گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم میرا انجام دیکھو میں تمھارا انجام دیکھتا ہوں۔ تمھارا انجام ناکامی اور ہلاکت ہے، میرا انجام کامیابی اور نجات ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31۔ 1 یعنی دیکھو! موت پہلے کسے آتی ہے؟ اور ہلاکت کس کا مقدر ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ آپ انہیں کہئے: تم بھی انتظار کرو [24]، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
[24] وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح شاعر لوگ وقتی طور پر اپنے سامعین کو متاثر کر لیتے ہیں لیکن ان کا کوئی قابل ذکر کارنامہ باقی نہیں رہتا۔ ان کے مرنے کے ساتھ ہی ان کی شخصیت بھی دنیا سے ختم ہو جاتی ہے۔ اسی صورت حال کی توقع وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی رکھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کے منتظر بیٹھے ہیں کہ کب آپ کو موت آلیتی ہے اور ان کی اس مصیبت سے جان چھوٹتی ہے۔ آپ ان سے کہیے کہ تم میرے متعلق گردش ایام کا انتظار کرو اور میں اس انتظار میں ہوں کہ تمہیں تمہاری ان کرتوتوں کی سزا کب اور کس طرح ملتی ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔