(آیت 24) ➊ { وَيَطُوْفُعَلَيْهِمْغِلْمَانٌلَّهُمْ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ دہر (۱۹) اور سورۂ واقعہ (18،17) کی تفسیر۔ ➋ { كَاَنَّهُمْلُؤْلُؤٌمَّكْنُوْنٌ:} یعنی ان کی خوب صورتی، سفیدی اور پاکیزگی کا یہ عالم ہو گا جیسے موتی ابھی اپنی سیپ ہی میں محفوظ ہوں، یا جواہرات والی ڈبیا میں اس طرح چھپا کر رکھے ہوئے ہوں کہ نہ ان پر گرد و غبار کا کوئی ذرہ پڑا ہو اور نہ وہ ہاتھ لگنے سے میلے ہوئے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اتنے خوب صورت اور صاف ستھرے ہوں گے کہ چھونے سے میلے ہوتے ہوں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
24۔ 1 یعنی جنتیوں کی خدمت کے لئے انہیں نو عمر خادم بھی دیئے جائیں گے جو ان کی خدمت کے لئے پھر رہے ہونگے اور حسن و جمال اور صفائی و رعنائی میں وہ ایسے ہونگے جیسے موتی، جسے ڈھک کر رکھا گیا ہو، تاکہ ہاتھ لگنے سے اس کی چمک دمک ماند نہ پڑے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ وہاں ان کی خدمت پر مامور [20] لڑکے چکر لگاتے رہیں گے اور وہ خود ایسے خوبصورت ہوں گے جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی
[20] نوخیز لڑکے :۔
یہ نوخیز لڑکے بے ریش ہوں گے اور ہمیشہ نوخیز ہی رہیں گے۔ ان کی خوبصورتی، صفائی اور پاکیزگی کا یہ عالم ہو گا جیسے موتی ابھی اپنی صدف میں ہی محفوظ ہوں یا کسی جواہرات والی ڈبیہ میں چھپا دیئے گئے ہوں تاکہ ان پر گرد و غبار کا کوئی ذرہ نہ پڑ جائے۔ بالفاظ دیگر وہ اتنے خوبصورت اور صاف ستھرے ہوں گے کہ ہاتھ لگنے سے بھی میلے معلوم ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
ان کے غلام کمسن نوعمر بچے جو حسن و خوبی میں ایسے ہیں جیسے مروارید ہوں اور وہ بھی ڈبے میں بند رکھے گئے ہوں، کسی کا ہاتھ بھی نہ لگا ہو اور ابھی ابھی تازے تازے نکالے ہوں، ان کی آبداری، صفائی، چمک دمک، روپ رنگ کا کیا پوچھنا؟ لیکن ان غلمان کے حسین چہرے انہیں بھی ماند کر دیتے ہیں اور جگہ یہ مضمون ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے «يَطُوفُعَلَيْهِمْوِلْدَانٌمُّخَلَّدُونَ» * «بِأَكْوَابٍوَأَبَارِيقَوَكَأْسٍمِّنمَّعِينٍ»[56-الواقعة:18،17] یعنی ہمیشہ نوعمر اور کمسن رہنے والے بچے آبخورے آفتابے اور ایسی شراب صاف کے جام کہ جن کے پینے سے نہ سر میں درد ہو، نہ بہکیں اور جس قسم کا میوہ یہ پسند کریں اور جس پرند کا گوشت یہ چاہیں ان کے پاس باربار لانے کے لیے چاروں طرف کمربستہ چل رہے ہیں اس دور شراب کے وقت آپس میں گھل مل کر طرح طرح کی باتیں کریں گے، دنیا کے احوال یاد آئیں گے، کہیں گے کہ ہم دنیا میں جب اپنے والوں میں تھے، تو اپنے رب کے آج کے دن کے عذاب سے سخت لرزاں و ترساں تھے، الحمداللہ رب نے ہم پر خاص احسان کیا اور ہمارے خوف کی چیز سے ہمیں امن دیا، ہم اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتے رہے، اس نے ہماری دعائیں قبول فرمائیں اور ہمارا قول پورا کر دیا یقیناً وہ بہت ہی نیک سلوک اور رحم والا ہے۔ مسند بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنتی اپنے دوستوں سے ملنا چاہے گا تو ادھر دوست کے دل میں بھی یہی خواہش پیدا ہو گی اس کا تخت اڑے گا اور راستہ میں دونوں مل جائیں گے، اپنے اپنے تختوں پر آرام سے بیٹھے ہوئے باتیں کرنے لگیں گے، دنیا کے ذکر کو چھیڑیں گے اور کہیں گے کہ فلاں دن فلاں جگہ ہم نے اپنی بخشش کی دعا مانگی تھی اللہ نے اسے قبول فرمایا }۔ [مسند بزار:3553:ضعیف] اس حدیث کی سند کمزور ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس آیت کی تلاوت کی تو یہ دعا پڑھی «اللَّهُمَّمُنَّعَلَيْنَاوَقِنَاعَذَابالسَّمُومإِنَّكأَنْتَالْبَرّالرَّحِيم» اعمش راوی حدیث سے پوچھا گیا کہ اس آیت کو پڑھ کر یہ دعا ام المؤمنین نے نماز میں مانگی تھی؟ جواب دیا ہاں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔