ایسے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جو قطاروں میں بچھائے ہوئے ہیں اور ہم نے ان کا نکاح سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتوں سے کر دیا، جو بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں۔
En
تختوں پر جو برابر برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کر دیں گے
(آیت 20) ➊ { مُتَّكِـِٕيْنَعَلٰىسُرُرٍمَّصْفُوْفَةٍ:} ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ تخت قطار در قطار آمنے سامنے بچھے ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «عَلٰىسُرُرٍمُّتَقٰبِلِيْنَ»[الصافات: ۴۴]”تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔“ ➋ { وَزَوَّجْنٰهُمْبِحُوْرٍعِيْنٍ:} اس کے لیے دیکھیے سورۂ دخان (۵۴) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
20۔ 1 مَصْفُوفَۃِ، ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے، گویا ایک صف میں ہیں۔ بعض نے مفہوم بیان کیا ہے، کہ چہرے ایک دوسرے کے سامنے ہونگے۔ جیسے میدان جنگ میں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے ہوتی ہیں اس مفہوم کو قرآن میں دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے " علی سرر متقابلین " ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر فروکش ہوں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
20۔ وہ قطار در قطار تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے اور ہم انہیں بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے بیاہ دیں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔