ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 9

یُّؤۡفَکُ عَنۡہُ مَنۡ اُفِکَ ﴿ؕ۹﴾
اس (قیامت) سے وہی بہکایا جاتا ہے جو (پہلے سے) بہکایا گیا ہے۔ En
اس سے وہی پھرتا ہے جو (خدا کی طرف سے) پھیرا جائے
En
اس سے وہی باز رکھا جاتا ہے جو پھیر دیا گیا ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) {یُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَ: عَنْهُ } کی ضمیر کا مرجع یا تو { اِنَّ الدِّيْنَ لَوَاقِعٌ } میں لفظ { الدِّيْنَ } ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہے کہ اس (قیامت) سے وہی بہکایا جاتا ہے جو (پہلے ہی) بہکایا گیا ہو، کسی صحیح الدماغ آدمی کو اس سے پھیرا اور بہکایا نہیں جا سکتا۔ یا { عَنْهُ } کی ضمیر کا مرجع { قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ } ہے، اس صورت میں {عَنْ} تعلیل کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہو گا کہ یقینا تم ایک اختلاف والی بات میں پڑے ہوئے ہو جس کی وجہ سے وہی آدمی بہکایا جاتا ہے جو (پہلے ہی) بہکایا گیا ہو، ایسی مختلف باتوں کی وجہ سے کسی صحیح دماغ والے کو بہکایا نہیں جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ {عَنْ} کے معانی میں سے تعلیل مسلّم معنی ہے، اس معنی کی مثال یہ آیت ہے: «وَ مَا نَحْنُ بِتَارِكِيْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ» [ھود: ۵۳] اور ہم اپنے معبودوں کو تیرے کہنے کی وجہ سے ہر گز چھوڑنے والے نہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے، یا حق سے یعنی بعث و توحید سے یا مطلب ہے مذکورہ اختلاف سے وہ شخص پھیر دیا گیا جسے اللہ نے اپنی توفیق سے پھیر دیا، پہلے مفہوم میں ذم ہے اور دوسرے میں مدح۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اس سے وہی برگشتہ ہوتا [4] ہے جس کے لئے برگشتہ ہونا مقدر ہو چکا
[4] آسمان کے نظم و نسق سے معاد پر دلیل :۔
یعنی ایسے جال دار راستوں والے آسمان کی قسم کہ تم لوگ جو قیامت اور آخرت کے بارے میں بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہو تو بہت سے لوگ اس قیامت اور آخرت پر ایمان لے آئیں گے اور اس عقیدہ سے انکار صرف وہی شخص کرے گا جس نے خیر و سعادت کی تمام راہیں اپنے آپ پر بند کر دی ہوں۔ ایسا ہی شخص ان باتوں کو تسلیم کرنے سے باز رہ سکتا ہے۔ ورنہ اگر وہ آسمان کے نظم و نسق میں ہی غور کرے تو اسے یقین ہو جائے کہ اس مسئلہ میں جھگڑنا محض حماقت ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔