ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 7

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الۡحُبُکِ ۙ﴿۷﴾
قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے! En
اور آسمان کی قسم جس میں رسے ہیں
En
قسم ہے راہوں والے آسمان کی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) {وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِ: حَبَكَ يَحْبُكُ حَبْكًا} (ن، ض) کسی چیز کو باندھنا، مضبوط بنانا، جولاہے کا کپڑے کو مضبوطی اور خوبصورتی کے ساتھ بننا۔ { الْحُبُكِ حَبِيْكَةٌ} کی جمع ہے۔ {حُبُكُ الرَّمْلِ وَالْمَاءِ وَالشَّعْرِ} ٹھہرے ہوئے پانی یا ریت پر ہوا سے جو لہریں سی بن جاتی ہیں، گھونگھریالے بالوں کی لہریں۔ {حُبُكُ السَّمَاءِ} آسمان میں ستاروں کے راستے۔ (قاموس)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 دوسرا ترجمہ، حسن جمال اور زینت و رونق والا کیا گیا ہے چاند، سورج ستارے و سیارے، روشن ستارے، اس کی بلندی اور وسعت، یہ سب چیزیں آسمان کی رونق وزینت اور خوب صورتی کا باعث ہیں

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ راستوں [3] والے آسمان کی قسم
[3] ﴿حَبَكَ﴾ کا لغوی معنی :۔
﴿حبك﴾ (الثوب) بمعنی کپڑا بننا اور حباک بمعنی جولاہا اور حبک حابک الثوب بمعنی جولاہے کا کپڑے کو کاریگری سے بننا۔ عمدہ بننا ہے (المنجد) اور کپڑا بنتے وقت ایک دھاگا طول کی طرف جاتا ہے اور دوسرا عرض کی طرف۔ پھر حبک کا معنی راستہ بھی ہے۔ (مفردات القرآن۔ منجد) اور اس کی جمع ﴿حُبُك ہے۔ گویا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس آسمان کی قسم جس کے طول و عرض دونوں اطراف میں بے شمار راہیں ہیں جو ایک دوسرے کو کر اس کرتی اور چوک بناتی چلی جاتی ہیں۔ اسی لحاظ سے اس کا ترجمہ بعض مترجمین نے جال دار یا جالی دار آسمان بھی کیا ہے۔ یعنی اس آسمان کی قسم جو سیاروں اور فرشتوں کی لا تعداد گزر گاہوں اور راستوں کی وجہ سے جالی دار بن گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔