ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 49

وَ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَیۡنِ لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۴۹﴾
اور ہر چیز سے ہم نے دو قسمیں بنائیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ En
اور ہر چیز کی ہم نے دو قسمیں بنائیں تاکہ تم نصیحت پکڑو
En
اور ہر چیز کو ہم نے جوڑا جوڑا پیداکیا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) ➊ { وَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ:} آسمان و زمین کی پیدائش کے بعد تمام موجودات کو پیدا کرنے کی کیفیت بیان فرمائی کہ جس طرح آسمان کے مقابلے میں زمین ہے اسی طرح ہم نے ہر چیز کی دو دو قسمیں بنائی ہیں، ہر ایک کے مقابلے میں دوسری چیز موجود ہے۔ چنانچہ آسمان و زمین، دن رات، خشکی و تری، اندھیرا و اجالا، موت و حیات، نیکی و بدی، جنت و دوزخ، یہاں تک کہ نباتات و حیوانات کے بھی جوڑے ہیں۔
➋ { لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ:} تاکہ تم نصیحت حاصل کرو، توحید کو سمجھو اور جان لو کہ مخلوق جو بھی ہے اس کے مقابلے میں دوسری موجود ہے، مگر ان سب کا خالق ایک اللہ ہے، اس کا کوئی جوڑ ہے نہ ہمسر، نہ شریک اور نہ اس کے مقابلے میں کوئی ہستی ہے اور یہ بھی سمجھ لو کہ اتنی عظیم الشان کائنات کو بنانے والا تمھیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور تمھیں دوبارہ زندہ ہو کر اس کے حضور پیش ہونا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49۔ 1 یعنی ہر چیز کو جوڑا جوڑا، نر اور مادہ یا اس کی مقابل اور ضد کو بھی پیدا کیا ہے۔ جیسے روشنی اور اندھیرا، خشکی اور تری، چاند اور سورج، میٹھا اور کڑوا رات اور دن خیر اور شر زندگی اور موت ایمان اور کفر شقاوت اور سعادت جنت اور دوزخ جن وانس وغیرہ حتی کہ حیوانات کے مقابل جمادات اس لیے ضروری ہے کہ دنیا کا بھی جوڑا ہو یعنی آخرت، دنیا کے بالمقابل دوسری زندگی۔ 49۔ 2 یہ جان لو کہ ان سب کا پیدا کرنے والا صرف ایک اللہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے [43] پیدا کر دیئے شاید تم (ان سے) سبق حاصل کرو
[43] ہر چیز کے جوڑے اور زوج کے مختلف مفہوم :۔
زوج کا لفظ عربی میں تین معنوں میں آتا ہے۔
(1) متضاد اشیاء جیسے دن اور رات، دھوپ اور سایہ، روشنی اور تاریکی، سیاہی اور سفیدی، خوشی اور رنج، خوشحالی اور تنگدستی وغیرہ۔
(2) ہم مثل اشیاء کے لیے جیسے پاؤں کے دونوں جوتے ایک دوسرے کا زوج ہیں۔ اسی طرح ہر دور کے مشرک ایک دوسرے کا زوج ہیں۔ ایک ہی نوعیت کے مجرم ایک دوسرے کا زوج ہیں۔
(3) نر و مادہ کے لیے مثلاً خاوند بیوی کا زوج ہے، بیوی خاوند کی زوج ہے۔ ہر نر مادہ کا زوج ہے اور ہر مادہ نر کا زوج ہے۔ اور اس آیت میں غالباً اسی قسم کے زوج مراد ہیں۔ جانداروں میں ایک دوسرے کا زوج تو سب کے مشاہدہ میں آچکا ہے۔ نباتات میں بھی یہ سلسلہ قائم ہے۔ بار بردار ہوائیں نر درختوں کا تخم مادہ درختوں پر ڈال دیتی ہیں تو تب ہی ان میں پھل لگتا اور پکتا ہے اور جدید تحقیق کے مطابق یہ سلسلہ جمادات میں بھی پایا جاتا ہے۔ بجلی کا مثبت اور منفی ہونا یا ایک حقیر سے ذرہ میں الیکٹرون اور پروٹون کا مثبت اور منفی ہونا انسان کے علم میں آ چکا ہے۔ مقناطیس میں بھی مثبت اور منفی سرے ہوتے ہیں۔ اور جمادات تو کیا ہر چیز ذرات ہی کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اس نرو مادہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ چلایا کہ ان دونوں کے ملاپ سے ایک تیسری چیز وجود میں آتی ہے جس میں بعض دفعہ تو اصل نر اور مادہ کے کچھ کچھ خواص موجود ہوتے ہیں اور بعض دفعہ یہ تیسری چیز ایسی چیز پیدا ہوتی ہے جس کے خواص پہلی دونوں چیزوں سے بالکل جداگانہ ہوتے ہیں اور اسی چیز کا نام کیمیا یا کیمسٹری ہے۔ انسان کا علم جس حد تک پہنچ چکا ہے وہ بہرحال محدود ہے۔ جبکہ وحی الٰہی پورا علم ہے جس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور ان میں غور کرنے سے انسان کو اللہ کی قدرت کاملہ سے متعلق بہت سبق ملتے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔