(آیت 48) ➊ {وَالْاَرْضَفَرَشْنٰهَا:} آسمان بنانے کی طرح زمین بچھانے کو بھی دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہونے کی دلیل کے طور پر ذکر فرمایا ہے اور {”وَفَرَشْنَاالْأَرْضَ“} کے بجائے {”وَالْاَرْضَفَرَشْنٰهَا“} میں بھی وہی بات ملحوظ ہے جو {”وَالسَّمَآءَبَنَيْنٰهَا“} میں ملحوظ ہے۔ زمین کی پیدائش میں اس کے گول ہونے کے ذکر کے بجائے، جو ہر ایک کی سمجھ میں آنے والی بات نہیں تھی، اس بات کا ذکر فرمایا جو ہر شخص کے مشاہدے اور استعمال میں ہے اور جس سے سب فائدہ اٹھاتے ہیں، کیونکہ اگر وہ ناہموار اور اونچی نیچی ہوتی تو اس پر ان کا اور ان کے جانوروں کا رہنا ہی ممکن نہ ہوتا، نہ وہ اس پر بیٹھ سکتے، نہ لیٹ سکتے اور نہ چل پھر سکتے اور اس خوشگوار زندگی اور آسائش کا تصور تک نہ ہوتا جو زمین کو بچھا کر اللہ تعالیٰ نے بندوں کو عطا فرما رکھی ہے۔ ➋ { فَنِعْمَالْمٰهِدُوْنَ: ”أَيْنَحْنُ“} یعنی ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں۔ ان آیات میں جمع متکلم (ہم) کا صیغہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے اظہار کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
48۔ 1 یعنی فرش کی طرح اسے بچھا دیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور ہم بڑے اچھے بچھانے والے [42] ہیں۔
[42] زمین گہوارہ کیسے ہے؟
یعنی سطح زمین کو ہموار بنا دیا تاکہ لوگ اور دوسرے جانور آسانی سے اس پر چل پھر سکیں۔ پھر سطح زمین پر ایک زرخیز چھلکا چڑھا دیا جس میں روئیدگی کی قوت رکھ دی تاکہ زمین پر رہنے والوں کو غذا مہیا ہو سکے۔ زمین کو سورج سے اتنی دور رکھا کہ زمین پر بسنے والے جاندار اس کی گرمی سے جل کر تباہ نہ ہو جائیں۔ اور نہ ہی اتنا زیادہ دور کر دیا کہ وہ سردی سے ٹھٹھر کر مر جائیں۔ نیز انسان کی جملہ ضروریات خورد و نوش، لباس، مسکن اور مدفن سب چیزوں کو زمین سے وابستہ کر دیا۔ اس طرح انسان اس قابل ہو گیا کہ کائنات کی اکثر چیزوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زندگی کے ہر میدان میں ترقی کی منزلیں طے کر سکے اور قیامت تک اس زمین پر آباد رہ سکے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تخلیق کائنات ٭٭
زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر فرما رہا ہے کہ ’ ہم نے آسمان کو اپنی قوت سے پیدا کیا ہے اسے محفوظ اور بلند چھت بنا دیا ہے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، قتادہ، ثوری رحمہ اللہ علیہم اور بہت سے مفسرین نے یہی کہا ہے کہ ’ ہم نے آسمانوں کو اپنی قوت سے بنایا ہے اور ہم کشادگی والے ہیں اس کے کنارے ہم نے کشادہ کئے ہیں اور بےستون اسے کھڑا کر دیا ہے اور قائم رکھا ہے، زمین کو ہم نے اپنی مخلوقات کے لیے بچھونا بنا دیا ہے اور بہت ہی اچھا بچھونا ہے، تمام مخلوق کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا ہے، جیسے آسمان زمین، دن رات، خشکی تری، اجالا اندھیرا، ایمان کفر، موت حیات، بدی نیکی، جنت دوزخ، یہاں تک کہ حیوانات اور نباتات کے بھی جوڑے ہیں یہ اس لیے کہ تمہیں نصیحت حاصل ہو تم جان لو کہ ان کا سب کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ لاشریک اور یکتا ہے پس تم اس کی طرف دوڑو اپنی توجہ کا مرکز صرف اسی کو بناؤ اپنے تمام تر کاموں میں اسی کی ذات پر اعتماد کرو تو تم سب کو صاف صاف آگاہ کر دینے والا ہوں خبردار اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا میرے کھلم کھلا خوف دلانے کا لحاظ رکھنا ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں