(آیت 46) {وَقَوْمَنُوْحٍمِّنْقَبْلُ …:} رازی نے یہاں ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ ان پانچ اقوام کے ذکر میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں انھی چیزوں کے ساتھ عذاب دیا جو ان کے وجود اور قیام کا باعث تھیں۔ وہ چار چیزیں ہیں، مٹی، پانی، ہوا اور آگ۔ قومِ لوط کھنگر مٹی کے پتھروں کے ساتھ ہلاک ہوئی، فرعون اور قومِ نوح پانی کے ساتھ، عاد ہوا کے ساتھ اور ثمود آگ کے ساتھ تباہ و برباد کیے گئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46۔ 1 قوم نوح، عاد، فرعون اور ثمود وغیرہ بہت پہلے گزر چکی ہے اس نے بھی اطاعت الٰہی کی بجائے اسکی بغاوت کا راستہ اختیار کیا تھا۔ بالآخر اسے طوفان میں ڈبو دیا گیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ اور اس سے پہلے ہم نے قوم نوح (کو ہلاک کیا تھا) بلا شبہ وہ نافرمان [40] لوگ تھے۔
[40] ذکر قوم نوح :۔
سیدنا نوحؑ اور ان کی قوم کا ذکر نہایت اختصار کے ساتھ صرف ایک آیت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ اس میں اس قوم کے جرم اور اس کی سزا دونوں کا ذکر آیا ہے۔ سابقہ آیات میں چند تاریخی شواہد پیش کر کے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ مکافات عمل کا قانون اس کائنات میں جاری و ساری ہے۔
سب قوموں کے ایک جیسے جرم اور انجام سے سبق :۔
جس قوم نے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کی اور اکڑ دکھائی اس کا انجام یہی ہوا کہ وہ تباہ و برباد ہوکے رہی۔ اور یہ عذاب محض ان کی گرفتاری کے حکم کا درجہ رکھتا تھا تاکہ وہ مزید جرائم نہ کر سکیں اور دوسرے لوگ ان کے مظالم سے بچ جائیں۔ رہی ان کے جرائم کی اصل سزا تو وہ قیامت کے دن مقدمہ، شہادتوں اور ثبوت جرم کے بعد دی جائے گی۔ اور یہ تاریخی واقعات، ان کا سبب اور ان کا نتیجہ سب کچھ کفار کو سنائے جا رہے ہیں تاکہ وہ خود ہی سمجھ جائیں کہ اگر وہ لوگ بھی حق کی مخالفت سے باز نہ آئے تو ان کا بھی ایسا ہی انجام ہو سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔