ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 4

فَالۡمُقَسِّمٰتِ اَمۡرًا ۙ﴿۴﴾
پھر ایک بڑے کام (بارش) کو تقسیم کرنے والی ہیں۔ En
پھر چیزیں تقسیم کرتی ہیں
En
پھر کام کو تقسیم کرنے والیاں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) {فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا:} یہ بھی وہ ہوائیں ہی ہیں جو بھاری بادلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے انھیں اللہ کے حکم سے زمین کے مختلف حصوں میں لے جا کر ان کے حصے کی بارش برساتی ہیں، جس سے مردہ زمین زندہ ہوتی ہے اور ہر علاقے کے لوگوں میں ان کا رزق تقسیم ہوتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 مقسمات، اس سے مراد فرشتے ہیں جو کام کو تقسیم کرلیتے ہیں، کوئی رحمت کا فرشتہ ہے تو کوئی عذاب کا، کوئی پانی کا ہے تو کوئی سختی کا، کوئی ہواؤں کا فرشتہ ہے تو کوئی موت اور حوادث کا۔ بعض نے ان سب سے صرف ہوائیں مراد لی ہیں اور ان سب کو ہواؤں کی صفت بتایا ہے۔ جیسے کہ فاضل مترجم نے بھی اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن ہم نے امام ابن کثیر اور امام شوکانی کی تفسیر کے مطابق تشریح کی ہے۔ قسم سے مقصد مقسم علیہ کی سچائی کو بیان کرنا ہوتا ہے یا بعض دفعہ صرف تاکید مقصود ہوتی ہے اور بعض دفعہ مقسم علیہ کو دلیل کے طور پر پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یہاں قسم کی یہی تیسری قسم ہے۔ آگے جواب قسم یہ بیان کیا گیا ہے کہ تمک سے جو وعدے کیے جاتے ہیں یقیناً وہ سچے ہیں اور قیامت برپا ہو کر رہے گی جس میں انصاف کیا جائے گا۔ یہ ہواؤں کا چلنا، بادلوں کا پانی کو اٹھانا، سمندروں میں کشتیوں کا چلنا اور فرشتوں کا مختلف امور کو سر انجام دینا، قیامت کے وقوع پر دلیل ہے، کیونکہ جو ذات یہ سارے کام کرتی ہے جو بظاہر نہایت مشکل اور اسباب عادیہ کے خلاف ہیں، وہی ذات قیامت والے دن تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ بھی کرسکتی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ پھر ان کی جو امر (بارش) کو تقسیم کرنے والی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔