(آیت 37){ وَتَرَكْنَافِيْهَاۤاٰيَةًلِّلَّذِيْنَيَخَافُوْنَالْعَذَابَالْاَلِيْمَ:} اس بستی کو عذاب الیم سے ڈرنے والوں کے لیے نشانی اس لیے قرار دیا کہ وہی اس سے عبرت حاصل کرتے اور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ڈرنے کے بجائے سرکشی اختیار کرتے اور خواہش نفس کے پیچھے چلتے ہیں ان کے لیے ہر نشانی کفر اور سرکشی میں اضافے کا باعث ہی بنتی ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ حجر (۷۵ تا ۷۷) اور سورۂ عنکبوت (۳۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 یہ آیت یا کامل علامت وہ آثار عذاب ہیں جو ان ہلاک شدہ بستیوں میں ایک عرصے تک باقی رہے۔ اور یہ علامت بھی انہی کے لئے ہے جو عذاب الٰہی سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ وعظ و نصیحت کا اثر بھی وہی قبول کرتے ہیں اور آیات میں غور و فکر بھی وہی کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ اور وہاں ان لوگوں کے لئے ایک نشانی [31] چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
[31] لوگوں کے لئے نشانی بحیرہ مردار :۔
وہ نشانی یہ تھی کہ جب فرشتوں نے اس پورے خطہ زمین کو اٹھا کر اور بلندی پر لے جا کر پھر اس کو الٹا کر زمین پر دے مارا تو یہ پورا خطہ زمین کے اندر دھنس گیا اور سطح سمندر سے چار سو کلومیٹر نیچے چلا گیا اور اس کے اوپر کالا پانی چڑھ آیا۔ جو ایک سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ پانی کے اس ذخیرہ کو بحر میت یا بحیرۂ مردار یا غرقاب لوطی کہا جاتا ہے۔ اس بحیرہ مردار (Dead Sea) کا جنوبی علاقہ آج بھی عظیم الشان تباہی کے آثار پیش کر رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں