ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 36

فَمَا وَجَدۡنَا فِیۡہَا غَیۡرَ بَیۡتٍ مِّنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۳۶﴾
تو ہم نے اس میں مسلمانوں کے ایک گھر کے سوا کوئی نہ پایا۔ En
اور اس میں ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا
En
اور ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر پایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 36) {فَمَا وَجَدْنَا فِيْهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ:} یعنی اس بستی میں مسلمانوں کا صرف ایک گھر تھا اور وہ لوط علیہ السلام کا گھر تھا، جنھیں بیوی کے سوا اس کے تمام افراد کو ساتھ لے کر نکل جانے کا حکم ہوا۔
ان دونوں آیات سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا ہو تو وہی ایمان بھی ہے، اس صورت میں اسلام و ایمان اور مسلم و مومن ایک ہی چیز ہیں۔ ہاں جب اسلام حقیقی نہ ہو، بلکہ صرف ظاہری اعمال پر مشتمل ہو تو اسلام اور ایمان میں فرق ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ اور محدثین یہی فرماتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ حجرات (۱۴، ۱۵) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

36۔ 1 اور یہ اللہ کے پیغمبر حضرت لوط ؑ کا گھر تھا جس میں دو بیٹیاں اور کچھ ایمان لانے والے تھے، کہتے ہیں کہ کل تیرہ آدمی تھے۔ ان میں حضرت لوط ؑ کا گھر تھا، جس میں ان کی دو بیٹیاں اور کچھ ایمان لانے والے تھے ان میں حضرت لوط ؑ کی بیوی شامل نہ تھی بلکہ وہ اپنی قوم کے ساتھ عذاب سے ہلاک ہونے والوں میں سے تھی۔ (ایسر التفاسیر) اسلام کے معنی ہیں اطاعت انقیاد اللہ کے حکموں پر سر اطاعت خم کردینے والا مسلم ہے اس اعتبار سے ہر مومن مسلمان ہے اسی لیے پہلے ان کے لیے مومن کا لفظ استعمال کیا، اور پھر ان ہی کے لیے مسلم کا لفظ بولا گیا ہے اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ ان کے مصداق میں کوئی فرق نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگ مومن اور مسلم کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ قرآن نے جو کہیں مومن اور مسلم کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تو وہ ان معانی کے اعتبار سے ہے جو عربی لغت کی رو سے ان کے درمیان ہے اس لیے لغوی استعمال کے مقابلے میں حقیقت شرعیہ کا اعتبار زیادہ ضروری ہے اور حقیقت شرعیہ کے اعتبار سے ان کے درمیان صرف وہی فرق ہے حدیث جبرائیل ؑ سے ثابت ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اسلام کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کی شہادت، اقامت صلوۃ، ایتائے زکوٰۃ، حج اور صیام رمضان۔ اور جب ایمان کی بابت پوچھا گیا تو فرمایا، اللہ پر ایمان لانا، اس کے ملائکہ، کتابوں، رسولوں اور تقدیر (خیر وشر کے من جانب اللہ ہونے) پر ایمان رکھنا، یعنی دل سے ان چیزوں پر یقین رکھنا ایمان اور احکام و فرائض کی ادائیگی اسلام ہے۔ اس لحاظ سے ہر مومن مسلمان اور ہر مسلمان مومن ہے (فتح القدیر) اور جو مومن اور مسلمان کے درمیان میں فرق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ یہاں قرآن نے ایک ہی گروہ کے لیے مومن اور مسلمان کے الفاظ استعمال کیے ہیں لیکن ان کے درمیان جو فرق ہے اس کی رو سے ہر مومن مسلم بھی ہے تاہم ہر مسلم کا مومن ہونا ضروری نہیں (ابن کثیر) بہرحال یہ ایک علمی بحث ہے فریقین کے پاس اپنے اپنے موقف پر استدلال کے لیے دلائل موجود ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ چنانچہ ہم نے وہاں ایک گھر کے سوا کوئی مسلمانوں [30] کا گھر نہ پایا
[30] قوم لوط میں مسلمانوں کا صرف ایک گھرانہ تھا :۔
یہ سیدنا لوطؑ کا گھرانہ تھا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ کل تیرہ افراد تھے جو اس تباہ کن عذاب سے بچے تھے۔ ان کی بیوی بھی تباہ ہو جانے والوں میں شامل تھی۔ ممکن ہے آپ پر ایمان لانے والوں نے بھی آپ کے ہی گھر میں پناہ لے رکھی ہو۔ واضح رہے کہ سیدنا لوطؑ پر ایمان لانے والوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے مسلمان ہی کے لقب سے نوازا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نزدیک دین حق صرف اسلام ہی ہے اور سب نبیوں پر ایمان لانے والے مسلمان ہی ہوتے تھے۔ اور ابتداءً مسلمان ہی کہلاتے تھے۔ بعد میں ہر نبی کی امت نے اپنے لیے علیحدہ علیحدہ نام رکھ لیے تھے۔ پھر وہ انہیں ناموں سے متعارف ہونے لگے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔