ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 31

قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۳۱﴾
کہا تو اے بھیجے ہوئے (قاصدو!) تمھارا معاملہ کیا ہے؟ En
ابراہیمؑ نے کہا کہ فرشتو! تمہارا مدعا کیا ہے؟
En
(حضرت ابرہیم علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا کیا مقصد ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) ➊ { قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ:} جب ابراہیم علیہ السلام مہمانوں کے کھانا نہ کھانے پر خوف زدہ ہوئے اور صاف اظہار بھی کر دیا: «‏‏‏‏اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ» [الحجر: ۵۲] ہم تو تم سے ڈرنے والے ہیں۔ کیونکہ انھیں ان کے فرشتہ ہونے کا اندازہ ہو گیا تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ فرشتوںکا اس طرح آنا معمولی بات نہیں ہوتی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ» [الحجر: ۸] ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق (عذاب) کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیے گئے نہیں ہوتے۔ اس لیے وہ شدید ڈر گئے، تو فرشتوں نے ان کا خوف دور کرنے کے لیے ان سے دو باتیں کہیں، ایک یہ: «‏‏‏‏لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍ» [ہود: ۷۰] ڈرو نہیں، کیونکہ ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ یعنی آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہماری منزل مقصود دوسری ہے۔ دوسری بات انھوں نے یہ کی کہ ہم آپ کو بیٹے اور پوتے اسحاق و یعقوب کی بشارت دینے آئے ہیں۔ (دیکھیے ہود: ۷۱) جب ابراہیم علیہ السلام کو اطمینان ہو گیا تو انھوں نے پوچھا، تو اے بھیجے جانے والے فرشتو! (قومِ لوط کے ساتھ) تمھارا معاملہ کیا ہے اور تم ان کے متعلق کیا کرنا چاہتے ہو؟ یاد رہے! {خَطْبٌ} کا لفظ عموماً کسی اہم یا سخت معاملے کے متعلق ہی استعمال کیا جاتا ہے۔
➋ اس سارے واقعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انبیاء علیھم السلام عالم الغیب نہیں ہوتے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۶۲) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31۔ 1 یعنی اس بشارت کے علاوہ تمہارا اور کیا کام اور مقصد ہے جس کے لئے تمہیں بھیجا گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ ابراہیم نے ان (فرشتوں) سے پوچھا: اے فرستادگان الٰہی! تمہارا کیا مقصد [25] ہے؟
[25] ﴿خَطْب﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿خَطْب بمعنی حال، معاملہ، مقصد خواہ چھوٹا ہو یا بڑا اور یہ لفظ عام طور پر کسی ناپسندیدہ معاملہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جب سیدنا ابراہیمؑ کو یہ معلوم ہو چکا تھا کہ یہ فرشتے ہیں اور فرشتے انسانی شکل میں غیر معمولی حالات میں ہی آیا کرتے ہیں۔ بیٹے کی بشارت سے ان کا اپنا ڈر تو دور ہو گیا تاہم ابھی اصل حیرت کا معاملہ باقی تھا۔ لہٰذا آپ نے فرشتوں سے پوچھا کہ آپ کس مہم پر تشریف لائے ہیں اور کیا مقصد ہے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ابراھیم علیہ السلام کے پاس فرشتوں کی آمد ٭٭
پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ’ جب ان نووارد مہمانوں سے ابراہیم علیہ السلام کا تعارف ہوا اور دہشت جاتی رہی ‘، بلکہ ان کی زبانی ایک بہت بڑی خوشخبری بھی سن چکے اور اپنی بردباری، اللہ ترسی اور دردمندی کی وجہ سے اللہ کی جناب میں قوم لوط کی سفارش بھی کر چکے اور اللہ کے ہاں کے حتمی وعدے کا اعلان بھی سن چکے، اس کے بعد جو ہوا اس کا بیان یہاں ہو رہا ہے کہ خلیل اللہ نے ان فرشتوں سے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ کس مقصد سے آئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ قوم لوط کے گنہگاروں کو تاخت تاراج کرنے کے لیے ہمیں بھیجا گیا ہے ہم ان پر سنگ باری اور پتھراؤ کریں گے ان پتھروں کو ان پر برسائیں گے جن پر اللہ کے حکم سے پہلے ہی ان کے نام لکھے جا چکے ہیں اور ہر ایک گنہگار کے لیے الگ الگ پتھر مقرر کر دئیے گئے ہیں۔
سورۃ العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ «قَالَ إِنَّ فِيهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَن فِيهَا لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهْلَهُ إِلَّا امْرَأَتَهُ كَانَتْ مِنَ الْغَابِرِينَ» ۱؎ [29-العنكبوت:32]‏‏‏‏ یہ سن کر خلیل الرحمن علیہ السلام نے فرمایا کہ وہاں تو لوط ہیں پھر وہ بستی کی بستی کیسے غارت کر دی جائے گی؟ فرشتوں نے کہا اس کا علم ہمیں بھی ہے ہمیں حکم مل چکا ہے کہ ہم انہیں اور ان کے ساتھ کے گھرانے کے تمام ایمان داروں کو بچا لیں ہاں ان کی بیوی نہیں بچ سکتی وہ بھی مجرموں کے ساتھ اپنے جرم کے بدلے ہلاک کر دی جائے گی۔
اسی طرح یہاں بھی ارشاد ہے کہ ’ اس بستی میں جتنے بھی مومن تھے سب کو بچا لیا گیا ‘، اس سے بھی مراد لوط علیہ السلام اور ان کے گھرانے کے لوگ ہیں سوائے ان کی بیوی کے، جو ایمان نہیں لائی تھیں۔
چنانچہ فرما دیا گیا کہ ’ وہاں سوائے ایک گھر کے اور گھر مسلمان تھا ہی نہیں ‘۔ یہ دونوں آیتیں دلیل ہیں ان لوگوں کی جو کہتے ہیں کہ ایمان و اسلام کی «مسمٰی» ایک ہی ہے۔ اس لئے کہ یہاں انہی لوگوں کو مومن کہا گیا ہے اور پھر انہی کو مسلمان کہا گیا ہے۔
معتزلہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ ایک ہی چیز ہے جسے ایمان بھی کہا جاتا ہے اور اسلام بھی، لیکن یہ استدلال ضعیف ہے اس لیے کہ یہ لوگ مومن تھے اور یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ ہر مومن مسلمان ہوتا ہے لیکن ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا۔
پس حال کی خصوصیت کی وجہ سے انہیں مومن مسلم کہا گیا ہے اس سے عام طور پر یہ بات نہیں ہوتا کہ ہر مسلم مومن ہے۔
(‏‏‏‏امام بخاری اور دیگر محدثین کا مذہب ہے کہ جب اسلام حقیقی اور سچا اسلام ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس صورت میں ایمان اسلام ایک ہی چیز ہے ہاں جب اسلام حقیقی طور پر نہ ہو تو بیشک اسلام ایمان میں فرق ہے صحیح بخاری شریف کتاب الایمان ملاحظہ ہو۔ مترجم)
پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی آباد و شاد بستیوں کو عذاب سے برباد کر کے انہیں سڑے ہوئے بدبودار کھنڈر بنا دینے میں مومنوں کے لیے عبرت کے پورے سامان ہیں جو عذاب الٰہی سے ڈر رکھتے ہیں وہ ان نمونہ کو دیکھ کر اور اس زبردست نشان کو ملاحظہ کر کے پوری عبرت حاصل کر سکتے ہیں ‘۔