(آیت 30) {قَالُوْاكَذٰلِكِقَالَرَبُّكِ …:} فرشتوں نے کہا بے شک آپ ایسی ہی ہیں، مگر ہم بھی اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے بلکہ آپ کے رب کی بات بتا رہے ہیں، اس نے ایسے ہی فرمایا ہے، یقینا وہ کمال حکمت اور علم والا ہے، نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر ہے اور نہ اس کے کسی کام میں کوئی خامی یا غلطی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
30۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے تجھے کہا ہے، یہ ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا ہے، بلکہ تیرے رب نے اسی طرح کہا ہے جس کی ہم تجھے اطلاع دے رہے ہیں، اس لئے اس پر تعجب کی ضرورت ہے نہ کہ شک کرنے کی، اس لئے کہ اللہ جو چاہتا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ وہ کہنے لگے: ”تمہارے پروردگار نے یوں ہی فرمایا [24] ہے۔ وہ بلا شبہ بڑا حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
[24] فرشتوں نے کہا ہم یہ نہیں جانتے کہ کیسے ہو گا؟ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ چونکہ تیرے پروردگار نے ایسا کہا ہے لہٰذا ایسا ضرور ہو گا اور وہ اپنے کام کی حکمتوں کو خود ہی خوب جانتا ہے کہ وہ سیدنا ابراہیم پر کیسی کیسی نوازشات کرنا چاہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔