ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 30

قَالُوۡا کَذٰلِکِ ۙ قَالَ رَبُّکِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۰﴾
انھوں نے کہا تیرے رب نے ایسے ہی فرمایا ہے، یقینا وہی کمال حکمت والا، بے حد علم والا ہے۔ En
(انہوں نے) کہا (ہاں) تمہارے پروردگار نے یوں ہی فرمایا ہے۔ وہ بےشک صاحبِ حکمت (اور) خبردار ہے
En
انہوں نے کہا ہاں تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے، بیشک وه حکیم وعلیم ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 30) {قَالُوْا كَذٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ …:} فرشتوں نے کہا بے شک آپ ایسی ہی ہیں، مگر ہم بھی اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے بلکہ آپ کے رب کی بات بتا رہے ہیں، اس نے ایسے ہی فرمایا ہے، یقینا وہ کمال حکمت اور علم والا ہے، نہ اس کے علم سے کوئی چیز باہر ہے اور نہ اس کے کسی کام میں کوئی خامی یا غلطی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

30۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے تجھے کہا ہے، یہ ہم نے اپنی طرف سے نہیں کہا ہے، بلکہ تیرے رب نے اسی طرح کہا ہے جس کی ہم تجھے اطلاع دے رہے ہیں، اس لئے اس پر تعجب کی ضرورت ہے نہ کہ شک کرنے کی، اس لئے کہ اللہ جو چاہتا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ وہ کہنے لگے: ”تمہارے پروردگار نے یوں ہی فرمایا [24] ہے۔ وہ بلا شبہ بڑا حکمت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
[24] فرشتوں نے کہا ہم یہ نہیں جانتے کہ کیسے ہو گا؟ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ چونکہ تیرے پروردگار نے ایسا کہا ہے لہٰذا ایسا ضرور ہو گا اور وہ اپنے کام کی حکمتوں کو خود ہی خوب جانتا ہے کہ وہ سیدنا ابراہیم پر کیسی کیسی نوازشات کرنا چاہتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔