ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 28

فَاَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفۡ ؕ وَ بَشَّرُوۡہُ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۲۸﴾
تو اس نے ان سے دل میں خوف محسوس کیا، انھوں نے کہا مت ڈر ! اور انھوںنے اسے ایک بہت علم والے لڑکے کی خوش خبری دی۔ En
اور دل میں ان سے خوف معلوم کیا۔ (انہوں نے) کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ اور ان کو ایک دانشمند لڑکے کی بشارت بھی سنائی
En
پھر تو دل ہی دل میں ان سے خوفزده ہوگئے انہوں نے کہا آپ خوف نہ کیجئے۔ اور انہوں نے اس (حضرت ابراہیم) کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) ➊ {فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيْفَةً …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۷۰) کی تفسیر۔
➋ { وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ:} سورۂ ہود میں اس لڑکے کا نام اسحاق آیا ہے، وہ غلام عليم تھے اور اسماعیل علیہ السلام غلام حلیم۔ ان کا ذکر سورۂ صافات (۱۰۱) میں ہے۔ اسحاق علیہ السلام کو { بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ } فرمایا، حالانکہ { عَلِيْمٍ } تو انھوں نے جوانی میں بننا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو بچے حفظ شروع کر دیں انھیں آئندہ کا لحاظ کرتے ہوئے حافظ کہا جا سکتا ہے۔ (و اللہ اعلم)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28۔ 1 ڈر اس لئے محسوس کیا کہ حضرت ابراہیم ؑ سمجھے، یہ کھانا نہیں کھا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آنے والے کسی خیر کی نیت سے نہیں بلکہ شر کی نیت سے آئے ہیں۔ 28۔ 2 حضرت ابراہیم ؑ کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ کر فرشتوں نے کہا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ پھر اپنے دل میں ان سے خوف [22] محسوس کیا۔ وہ کہنے لگے: ”ڈرو نہیں“ پھر انہوں نے ابراہیم کو ایک صاحب علم لڑکے کی بشارت دی۔
[22] سیدنا ابراہیمؑ کے خوف کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ عرب میں قبائلی دستور یہ تھا کہ اگر مہمان کھانا نہ کھائے تو یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ کسی بری نیت سے آیا ہے۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ عین ممکن ہے کہ مہمانوں کے کھانا نہ کھانے سے سیدنا ابراہیمؑ کو معلوم ہو گیا ہو کہ انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔ اس صورت سے ڈرنے کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے غیر معمولی حالات کے سوا انسانی شکل میں نہیں آیا کرتے لہٰذا آپ کو خوف لاحق ہوا کہ غالباً کوئی خوفناک معاملہ در پیش ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔