(آیت 27) {فَقَرَّبَهٗۤاِلَيْهِمْقَالَاَلَاتَاْكُلُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ یہ بھی مہمان نوازی کے آداب میں سے ہے کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو کھانے تک جانے کی زحمت دینے کے بجائے اسے ان کی خدمت میں پیش کرنا چاہیے اور یہ بھی کہ اگر وہ کھانے میں تامل کریں تو شائستہ طریقے سے کھانے کی درخواست کرنی چاہیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
27۔ 1 یعنی سامنے رکھنے کے باوجود انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھایا تو پوچھا
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ اور اسے ان کے سامنے پیش کیا اور پوچھا: تم کھاتے کیوں نہیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔