ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 27

فَقَرَّبَہٗۤ اِلَیۡہِمۡ قَالَ اَلَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۫۲۷﴾
پھر اسے ان کے قریب کیا کہا کیاتم نہیں کھاتے؟ En
(اور کھانے کے لئے) ان کے آگے رکھ دیا۔ کہنے لگے کہ آپ تناول کیوں نہیں کرتے؟
En
اور اسے ان کے پاس رکھا اور کہا آپ کھاتے کیوں نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27) {فَقَرَّبَهٗۤ اِلَيْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ یہ بھی مہمان نوازی کے آداب میں سے ہے کہ جہاں تک ہو سکے مہمانوں کو کھانے تک جانے کی زحمت دینے کے بجائے اسے ان کی خدمت میں پیش کرنا چاہیے اور یہ بھی کہ اگر وہ کھانے میں تامل کریں تو شائستہ طریقے سے کھانے کی درخواست کرنی چاہیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

27۔ 1 یعنی سامنے رکھنے کے باوجود انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ ہی نہیں بڑھایا تو پوچھا

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ اور اسے ان کے سامنے پیش کیا اور پوچھا: تم کھاتے کیوں نہیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔