(آیت 19){ وَفِيْۤاَمْوَالِهِمْحَقٌّلِّلسَّآىِٕلِوَالْمَحْرُوْمِ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ معارج (۲۴، ۲۵) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 محروم سے مراد، وہ ضرورت مند ہے جو سوال سے اجتناب کرتا ہے۔ چناچہ مستحق ہونے کے باوجودلوگ اسے نہیں دیتے۔ یا وہ شخص ہے جس کا سب کچھ، آفت ارضی و سماوی میں، تباہ ہوجائے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ اور ان کے اموال میں مانگنے والوں اور نہ مانگنے والوں [12] (دونوں) کا حق ہے
[12] مال میں سائل اور محروم کا حق :۔
اس سے مراد محض اموال زکوٰۃ نہیں، کیونکہ زکوٰۃ تو اس وقت فرض بھی نہ ہوئی تھی۔ نیز ترمذی میں واضح طور پر یہ صراحت موجود ہے۔ کہ ان فی المال حقاً سوی الزکوٰۃ کہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہوتا ہے اور اس حق میں مانگنے والے بھی شامل ہیں اور نہ مانگنے والے بھی۔ یعنی نیک لوگ خود ان لوگوں کی تلاش میں ہوتے ہیں جو محتاج ہوں۔ بیوہ عورتیں ہوں، مریض یا معذور ہوں اور کما نہ سکتے ہوں یا عیالدار ہوں مگر مانگنے سے ہچکچاتے ہوں۔ اور ان کو جو کچھ دیتے ہیں وہ ان کا حق سمجھ کر انہیں ادا کرتے ہیں۔ صدقہ و خیرات کے طور پر نہیں دیتے کہ ان سے کسی شکریہ یا بدلہ کے طالب ہوں یا بعد میں انہیں احسان جتلاتے پھریں۔ یعنی جس طرح قرض ادا کرنا ایک حق اور ضروری امر ہے۔ اور قرضہ ادا کر کے کوئی احسان نہیں جتلاتا کہ میں نے تمہارا قرضہ ادا کر دیا۔ اسی طرح مالدار لوگوں کے اموال میں سائل اور محروم کا حق ہوتا ہے۔ اگر وہ ادا نہ کرے گا تو اس کے اپنے سر پر بوجھ رہے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔