(آیت 13) {يَوْمَهُمْعَلَىالنَّارِيُفْتَنُوْنَ: ”فَتَنَيَفْتُنُ“} (ن،ض) کا معنی آزمانا بھی ہے اور جلانا بھی۔ کھرے یا کھوٹے کی پہچان کے لیے سونے کو آگ میں پگھلایا جائے تو کہتے ہیں: {”فَتَنْتُالذَّهَبَ۔“} فرمایا، وہ روزِ جزا اس دن ہو گا جب انھیں آگ پر رکھ کر تپایا اور جلایا جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
13۔ 1 یفتنون کے معنی ہیں یحرقون ویعذبون جس طرح سونے کو آگ میں ڈال کر پرکھا جاتا ہے، اسی طرح یہ ڈالے جائیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
13۔ جس دن یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔