(آیت 12) {يَسْـَٔلُوْنَاَيَّانَيَوْمُالدِّيْنِ:} یعنی جب انھیں قیامت کے انکار کی کوئی معقول دلیل نہیں ملتی تو وہ کہتے ہیں، اچھا یہ بتاؤ جزا کا دن کب ہے؟ ظاہر ہے ان کا یہ سوال محض انکار اور استہزا کے لیے ہے، کیونکہ تاریخ کا تعین کوئی دلیل نہیں جس سے کوئی منکر اقرار پر آمادہ ہو جائے، بلکہ اس کے بعد ان کا اگلا سوال یہ ہو گا کہ اس کے آنے سے پہلے آخر ہم یہ یقین کیسے کر لیں کہ اس دن وہ واقعی آ جائے گی؟ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا وقت نہیں بتایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ پوچھتے ہیں [6] جزا و سزا کا دن کب ہو گا؟
[6] یعنی دنیا کی دلچسپیوں اور اس کے دھندوں میں مست اور سرشار ہیں اور آخرت سے بالکل بے فکر اور بے نیاز بنے ہوئے ہیں اور از راہ تمسخر یہ سوال کرتے ہیں کہ اجی حضرت جس قیامت سے ہمیں ڈراتے ہو وہ کب آرہی ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔