ترجمہ و تفسیر — سورۃ الذاريات (51) — آیت 11

الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ غَمۡرَۃٍ سَاہُوۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
وہ جو خود بڑی غفلت میں بھولے ہوئے ہیں۔ En
جو بےخبری میں بھولے ہوئے ہیں
En
جو غفلت میں ہیں اور بھولے ہوئے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) {الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَ:غَمَرَ يَغْمُرُ غَمْرًا } (ن) { اَلْمَاءُ } کا معنی پانی کا کسی چیز کو ڈھانپ لینا ہے، اس لیے گہرے پانی کو {غَمْرَةٌ} کہتے ہیں۔ سختی اور موت کو اور جہالت و غفلت کو بھی {غَمْرَةٌ} کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی آدمی کی عقل کو ڈھانپ لیتی ہیں۔ { غَمْرَةٍ } پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ بڑی غفلت کیا گیا ہے۔ { سَاهُوْنَ سَهَا يَسْهُوْ سَهْوًا} (ن) سے اسم فاعل کی جمع ہے، بھولے ہوئے۔ یعنی انھوں نے آخرت کا انکار محض خیال اور اندازے کی بنا پر کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس کی تیاری سے بہت بڑی غفلت میں مبتلا ہو کر اپنے خوفناک انجام کو بھولے ہوئے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ جو بے ہوشی میں پڑے غافل بنے ہوئے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔