(آیت 11) {الَّذِيْنَهُمْفِيْغَمْرَةٍسَاهُوْنَ:”غَمَرَيَغْمُرُغَمْرًا“} (ن) {”اَلْمَاءُ“} کا معنی ”پانی کا کسی چیز کو ڈھانپ لینا“ ہے، اس لیے گہرے پانی کو {”غَمْرَةٌ“} کہتے ہیں۔ سختی اور موت کو اور جہالت و غفلت کو بھی {”غَمْرَةٌ“} کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی آدمی کی عقل کو ڈھانپ لیتی ہیں۔ {”غَمْرَةٍ“} پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی غفلت“ کیا گیا ہے۔ {”سَاهُوْنَ“”سَهَايَسْهُوْسَهْوًا“} (ن) سے اسم فاعل کی جمع ہے، بھولے ہوئے۔ یعنی انھوں نے آخرت کا انکار محض خیال اور اندازے کی بنا پر کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اس کی تیاری سے بہت بڑی غفلت میں مبتلا ہو کر اپنے خوفناک انجام کو بھولے ہوئے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ جو بے ہوشی میں پڑے غافل بنے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔