(آیت 9) ➊ {وَنَزَّلْنَامِنَالسَّمَآءِمَآءًمُّبٰرَكًا:”مَآءًمُّبٰرَكًا“} وہ پانی جس میں بہت برکت یعنی خیرِ کثیر رکھی گئی ہے۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں بلکہ مبالغہ کے لیے ہے۔ جس پانی کو اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے اس کی خیر کی کثرت کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے۔ موت کے بعد زندگی کے اثبات کے لیے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزوں کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد اب بارش کا اور اس کی برکت سے زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں کا ذکر فرمایا۔ مقصود اس سے بھی موت کے بعد زندگی کا اثبات ہے، چنانچہ آخر میں فرمایا: «كَذٰلِكَالْخُرُوْجُ» [قٓ: ۱۱]”اسی طرح (دوبارہ زندہ ہو کر) نکلنا ہے۔“ آسمان سے پانی اتارنے کے لیے باب تفعیل {”نَزَّلْنَا“} استعمال فرمایا جس میں تدریج ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بارش کے قطروں کے بجائے کروڑوں اربوں ٹن پانی دفعتاً گرا دے تو زمین پر کوئی چیز باقی ہی نہ رہے۔ ➋ {فَاَنْۢبَتْنَابِهٖجَنّٰتٍوَّحَبَّالْحَصِيْدِ: ”حَصَدَيَحْصُدُحَصْدًاوَحِصَادًا“} (ن) کھیتی کاٹنا۔ {”الْحَصِيْدِ“} بمعنی {”اَلْمَحْصُوْدُ“} کاٹی ہوئی کھیتی۔ بارش سے پیدا ہونے والی چیزیں دو قسم کی ہیں، کچھ وہ جن کے درخت باقی رہتے ہیں اور ان کے پھل پھول، گوند، پتوں، ٹہنیوں اور لکڑی وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور کچھ وہ جنھیں کاٹ کر ان سے غلہ، دالیں، سبزیاں، ادویات اور بے شمار مفید چیزیں حاصل کی جاتی ہیں۔ یہاں خصوصاً پھل دار درختوں اور غلہ جات کا ذکر فرمایا، کیونکہ یہ دوسری اشیاء پر برتری رکھتے ہیں اور انسان اور اس کے پالتو جانوروں کی خوراک بنتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «مَتَاعًالَّكُمْوَلِاَنْعَامِكُمْ» [النازعات: ۳۳]”تمھاری اور تمھارے چوپاؤں کی زندگی کے سامان کے لیے۔ “
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 کٹنے والے غلے سے مراد وہ کھیتیاں مراد ہیں جن سے گندم مکڑی جوار باجرہ دالیں اور چاول وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کا ذخیرہ کرلیا جاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ اور ہم نے آسمان سے برکت والا [11] پانی نازل کیا جس سے ہم نے باغ اگائے اور اناج بھی جو کاٹا جاتا ہے
[11] بارش سے نباتات کی روئیدگی اور بعث بعد الموت :۔
جس زمین پر بارش ہوئی وہ بذات خود مٹی اور مردہ ہے اور جو پانی برسا وہ بھی بے جان تھا۔ تاہم برکت والا اس لحاظ سے تھا کہ اس نے زمین میں مل کر زمین کو مردہ سے زندہ بنا دیا اور وہ اس قابل ہو گئی کہ وہ زندہ چیزیں اگائے۔ اس میں جو فصلیں اور غلے پیدا ہوئے وہ بھی زندہ تھے کیونکہ وہ بڑھتے اور پھلتے پھولتے تھے اور یہی زندگی کی علامت ہے۔ پھر کئی طرح کے درخت اور باغات اور بالخصوص کھجوروں کے اونچے اونچے بلند و بالا درخت پیدا کئے ان میں زندگی موجود تھی۔ پھر اس فصل اور ان باغات سے غلے اور میوے اور پھل حاصل ہوئے۔ اور یہ چیزیں بے جان تھیں۔ گویا اللہ نے مردہ چیز سے زندہ چیز کو اور زندہ چیز سے مردہ کو پھر پیدا کر دکھایا اور یہ عمل ہر وقت اور ہر آن جاری رہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔