(آیت 8){ تَبْصِرَةًوَّذِكْرٰى …: ”تَبْصِرَةً“} اور {”ذِكْرٰى“} یہ دونوں مفعول لہ ہیں، یعنی ہم نے یہ سب کچھ بنایا اور اس کا یہاں ذکر کیا ہے ہر اس آدمی کو دکھانے اور یاد دلانے کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے، کیونکہ وہی ان سے نصیحت حاصل کرتا ہے۔ جو دھیان ہی نہ کرے اس کے لیے یہ سب کچھ بے فائدہ ہے: انّہے نوں بازار پھرایا، سارا شہر وکھایا آخر اُتے آکھن لگا کجھ نہیں نظری آیا ”یعنی اندھے کو بازار دکھایا اور سارے شہر کی سیر کروائی، مگر اس نے آخر میں یہی کہا کہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 یعنی آسمان و زمین کی تخلیق اور دیگر اشیا کا مشاہدہ اور ان کی معرفت ہر اس شخص کے لئے بصیرت و دانائی اور عبرت و نصیحت کا باعث ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ (ان چیزوں میں) ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے بصیرت اور سبق (حاصل کرنے کا سامان) ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔