وَ الۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰہَا وَ اَلۡقَیۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ وَ اَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ ۙ﴿۷﴾
اور زمین، ہم نے اسے پھیلایا اور اس میں گڑے ہوئے پہاڑ رکھے اور اس میں خوبی والی ہر قسم اگائی۔
En
اور زمین کو (دیکھو اسے) ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دیئے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اُگائیں
En
اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور اس میں ہم نے پہاڑ ڈال دیئے ہیں اور اس میں ہم نے قسم قسم کی خوشنما چیزیں اگا دی ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 7){ وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا …: ” بَهِيْجٍ “ ”بَهْجَةٌ“} سے صفت کا صیغہ ہے، خوبی والی۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۱۹)، نحل (۱۵)، طٰہٰ (۵۳)، نمل (۶۰، ۶۱)، لقمان (۱۰)، زخرف (۱۰ تا ۱۴) اور مرسلات (۲۵ تا ۲۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 اور بعض نے زوج کے معنی جوڑا کیا ہے یعنی ہر قسم کی نباتات اور اشیا کو جوڑا جوڑا (نر مادہ) بنایا ہے بھیج کے معنی خوش منظر شاداب اور حسین
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا [8] اور اس میں مضبوط پہاڑ [9] رکھ دیئے اور اس میں ہر طرح کی پر بہار [10] چیزیں اگائیں
[8] زمین کی تخلیق اور فوائد :۔
یہ دوسری دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اتنا وسیع بنا دیا اور پھیلا دیا کہ وہ قیامت تک پیدا ہونے والے جانوروں اور انسانوں کے لئے مسکن اور مستقر کا کام دے سکے اور وہ اتنی پیداوار اگا سکے جس سے تمام جانداروں اور انسانوں کو تا قیامت رزق مہیا ہوتا رہے۔ نیز ان جانوروں اور انسانوں کے مرنے کے بعد ان کے مدفن کا کام بھی دے سکے۔
[9] پہاڑوں کی تخلیق اور فوائد :۔
اس آیت اور کئی دیگر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی پیدائش الگ چیز ہے اور پہاڑوں کی پیدائش الگ چیز ہے۔ پہاڑ زمین کے ساتھ ہی نہیں بلکہ بعد میں پیدا کئے گئے اور پہاڑوں کی پیدائش کا سب سے بڑا فائدہ یہ بتایا گیا ہے کہ زمین جب پیدا کی گئی تو اپنی تیز رفتار کی وجہ سے ہلتی، ہچکولے کھاتی اور ڈولتی تھی۔ اور یہ اس قابل نہ تھی کہ اس پر انسان یا جانور زندہ رہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کے ایسے ایسے مقامات پر پہاڑوں کا سلسلہ بنایا اور اس توازن و تناسب کے ساتھ بنایا جس سے زمین کا ادھر ادھر جھکنا اور ہچکولے کھانا موقوف ہو گیا اور وہ جانداروں کی رہائش اور مستقر کے قابل بن گئی۔ یہ تو پہاڑوں کا بنیادی فائدہ ہے اس کے علاوہ پہاڑوں کے ضمنی فائدے بھی قرآن میں جابجا مذکور ہیں۔ یہ بات بھی اللہ کی قدرت کاملہ پر دلالت کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت تو کافر بھی تسلیم کرتے ہیں۔ مگر اس قدرت سے انکار کرتے ہیں کہ وہ انسان کو دوبارہ پیدا کر سکے؟ فیا للعجب!
[10] آب و ہوا ایک جیسی، نباتات مختلف :۔
یعنی قطعہ زمین ایک ہی ہوتا ہے۔ پانی بھی ایک جیسا، آب و ہوا اور موسم بھی ایک ہی لیکن کہیں پودے اگ رہے ہیں جن میں سے کسی کا پھل میٹھا، کسی کا کڑوا اور کسی کا کسیلا ہوتا ہے۔ کہیں غلے اور فصلیں اگ رہی ہیں۔ کہیں درخت اگ رہے ہیں۔ جن میں بعض پھل دار ہیں اور بعض خار دار۔ اور کہیں رنگ برنگ کے خوشنما اور خوشبودار پھول اگ رہے ہیں۔ جب یہ چیزیں اپنے جوبن پر آتی ہیں تو عجب منظر اور عجب بہار پیش کرتی ہیں۔ کیا یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی حیران کن قدرت کاملہ کا ثبوت پیش نہیں کرتیں؟ تو پھر کیا اللہ تعالیٰ میں اتنی قدرت بھی تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ زمین سے تمہارے بکھرے ہوئے ذرات کو اکٹھا کر کے تمہیں دوبارہ زندہ کر دے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭
یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» ۱؎ [67-الملك:3]، ’ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ ‘ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔
پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ’ ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ ‘ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔
پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ’ ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ ‘ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔
پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔
پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے
چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ ‘
اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] یعنی ’ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [41-فصلت:39] ’ یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ ‘
پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے
چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] یعنی ’ آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ ‘
اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] یعنی ’ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘
اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [41-فصلت:39] ’ یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ ‘