وَ اسۡتَمِعۡ یَوۡمَ یُنَادِ الۡمُنَادِ مِنۡ مَّکَانٍ قَرِیۡبٍ ﴿ۙ۴۱﴾
اور کان لگا کر سن جس دن پکارنے والا ایک قریب جگہ سے پکارے گا۔
En
اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا
En
اور سن رکھیں کہ جس دن ایک پکارنے واﻻ قریب ہی کی جگہ سے پکارے گا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 41) ➊ {وَ اسْتَمِعْ …:} پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی بے ہودہ گوئی پر صبر اور اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، اس آیت میں آپ کی تسلی کے لیے قیامت کے دن کا ذکر فرمایا کہ تھوڑا صبر کریں ان کی جزا کے لیے قیامت کا دن آیا ہی چاہتا ہے۔ ابن عطیہ نے {” اسْتَمِعْ “} کا معنی {” اِنْتَظِرْ “} کیا ہے، یعنی صبر کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں…۔ اگر اس کا لفظی معنی ”کان لگا کر سن“ کیا جائے تو اس سے مراد بھی آپ کو تسلی دینا ہے کہ قیامت اتنی قریب ہے گویا اس میں پکارنے والے کی منادی کی آواز آپ کے کانوں میں آ رہی ہے۔ زمخشری نے فرمایا: {” وَ اسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ “} کا مطلب یہ ہے کہ کان لگا کر سن قیامت کے دن کا حال جو میں تمھیں بتانے لگا ہوں۔“
➋ { يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ:} اس سے مراد صور میں دوسری دفعہ پھونکے جانے کا وقت ہے، جب فرشتہ صور میں پھونک مار کر سب لوگوں کو قبروں سے نکل کر محشر میں جمع ہو جانے کے لیے آواز دے گا۔ دیکھیے سورۂ قمر (۶ تا ۸)۔
➌ { مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ:} یعنی قبروں میں پڑے ہوئے ہر شخص کو وہ آواز بالکل قریب سے آتی ہوئی سنائی دے گی۔ موجودہ سائنسی ایجادات سے یہ بات سمجھنا بہت آسان ہو گیا ہے۔
➋ { يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ:} اس سے مراد صور میں دوسری دفعہ پھونکے جانے کا وقت ہے، جب فرشتہ صور میں پھونک مار کر سب لوگوں کو قبروں سے نکل کر محشر میں جمع ہو جانے کے لیے آواز دے گا۔ دیکھیے سورۂ قمر (۶ تا ۸)۔
➌ { مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ:} یعنی قبروں میں پڑے ہوئے ہر شخص کو وہ آواز بالکل قریب سے آتی ہوئی سنائی دے گی۔ موجودہ سائنسی ایجادات سے یہ بات سمجھنا بہت آسان ہو گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
41۔ 1 یعنی قیامت کے جو احوال وحی کے ذریعے سے بیان کئے جا رہے ہیں، انہیں توجہ سے سنیں۔ 41۔ 2 یہ پکارنے والا اسرافیل فرشتہ ہوگا یا جبرائیل اور یہ ندا وہ ہوگی جس سے لوگ میدان محشر میں جمع ہوجائیں گے۔ یعنی نفخہ ثانیہ۔ 41۔ 3 اس سے بعض نے صخرہ بیت المقدس مراد لیا ہے، کہتے ہیں یہ آسمان کے قریب ترین جگہ ہے اور بعض کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص یہ آوازیں اس طرح سنے گا جیسے اس کے قریب سے ہی آواز آرہی ہے (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
41۔ اور توجہ سے سنیے۔ جس دن پکارنے والا [48] قریب ہی سے پکارے گا
[46] پانچ نمازوں کے اوقات :۔
طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے پروردگار کی حمد سے مراد فرض نمازیں ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے:
جنت میں دیدار الہٰی :۔
سیدنا جریر بن عبد اللہؓ بجلی کہتے ہیں کہ ایک رات ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کو دیکھا جو چودھویں رات کا تھا۔ عنقریب تم (جنت میں) اپنے پروردگار کو یوں بے تکلف دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور تمہیں کوئی تکلیف محسوس نہ ہو گی۔ پھر اگر تم ایسا کر سکو کہ تم سے طلوع آفتاب سے پہلے کی نماز (فجر) اور غروب آفتاب سے پہلے کی نماز (عصر) قضا نہ ہونے پائے تو ایسا ضرور کرو۔ اس کے بعد آپ نے یہی آیت پڑھی: ﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ﴾ [بخاري۔ كتاب التفسير]
اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے تین ہی نمازیں تھیں۔ فجر کی نماز، عصر کی نماز اور تہجد کی نماز اور بعض علماء اس آیت سے پانچوں نمازیں ثابت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک طلوع آفتاب سے پہلے سے مراد فجر کی نماز ہے اور غروب آفتاب سے پہلے سے مراد ظہر اور عصر کی نمازیں اور رات کی نمازوں سے مراد مغرب اور عشا کی نمازیں ہیں۔
اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ نمازوں کی فرضیت سے پہلے تین ہی نمازیں تھیں۔ فجر کی نماز، عصر کی نماز اور تہجد کی نماز اور بعض علماء اس آیت سے پانچوں نمازیں ثابت کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک طلوع آفتاب سے پہلے سے مراد فجر کی نماز ہے اور غروب آفتاب سے پہلے سے مراد ظہر اور عصر کی نمازیں اور رات کی نمازوں سے مراد مغرب اور عشا کی نمازیں ہیں۔
[47] نمازوں کے بعد نوافل اور ذکر و اذکار :۔
اس کے بھی دو مطلب ہیں ایک یہ کہ ہر نماز کے بعد کچھ سنت اور نوافل ادا کئے جائیں۔ واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز بطور نفل ادا کی وہی ہمارے لئے سنت ہے اور ہمارے ہاں جو رکعات بطور نوافل ادا کی جاتی ہیں وہ ان نوافل سے زائد ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کئے اور جسے ہم سنت نماز کہتے ہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد کچھ ذکر اذکار اور تسبیح و تہلیل بھی کیا کیجئے۔ جیسا کہ مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے حکم دیا کہ ہر (فرض) نماز کے بعد تسبیح پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ﴿وَاَدْبَار السُّجُوْدِ﴾ کا یہی مطلب ہے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
ایسے بہت سے اذکار صحیح احادیث سے ثابت ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ یہاں صرف ایک اہم ذکر درج کیا جاتا ہے جس کی بہت فضیلت آئی ہے: سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ کچھ محتاج لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے: ”مالدار لوگ بلند درجات لے گئے اور ہمارا چین لوٹ لیا۔ ہماری طرح وہ بھی نمازیں ادا کرتے اور روزے رکھ لیتے ہیں۔ پھر ان کے پاس پیسہ ہم سے زائد چیز ہے جس سے وہ حج، عمرہ، جہاد اور صدقہ و خیرات بھی کر لیتے ہیں جو ہم محتاج ہونے کی وجہ سے نہیں کر سکتے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تم کرو تو آگے بڑھنے والوں کو پکڑ لو اور تم کو کوئی نہ پا سکے جو تمہارے پیچھے ہے اور تم اپنے زمانہ والوں میں سے سب اچھے بن جاؤ الا یہ کہ وہ بھی یہ کام کرنے لگیں۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر کہہ لیا کرو“ اور بعض روایات کے مطابق ﴿سبحان الله﴾ 33 بار، ﴿الحمد لله﴾ 33 بار اور ﴿الله اكبر﴾ 34 بار کہنا چاہئے (تاکہ سو (100) پورا ہو جائے)“ [بخاري۔ كتاب الصلوٰة۔ باب الذكر بعد الصلٰوة]
اور بعض روایات میں ہے کہ جب مالدار لوگ بھی یہ ذکر پڑھنے لگے تو محتاج لوگ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے کہ یہ ذکر تو مالدار لوگ بھی کرنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کا فضل ہے، جتنا جسے چاہے دے دے۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ایسے ذکر کا کچھ فائدہ نہ ہو گا کہ زبان تو چل رہی ہو اور دل اور باتوں میں مشغول ہو۔
[48] یہ نفخہ صور ثانی کا وقت ہو گا اور پکارنے والا فرشتہ یہ بات کہے گا کہ ”اے مرے ہوئے لوگو! سب اپنی اپنی قبروں سے اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر نکل آؤ اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے لئے پیش ہو جاؤ“ قبروں میں پڑا ہوا ہر شخص یوں محسوس کرے گا کہ کہیں قریب سے ہی یہ آواز آرہی ہے۔ موجودہ سائنسی ایجادات نے اس چیز کو بہت قریب الفہم بنا دیا ہے۔
ایسے بہت سے اذکار صحیح احادیث سے ثابت ہیں جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ یہاں صرف ایک اہم ذکر درج کیا جاتا ہے جس کی بہت فضیلت آئی ہے: سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ کچھ محتاج لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے: ”مالدار لوگ بلند درجات لے گئے اور ہمارا چین لوٹ لیا۔ ہماری طرح وہ بھی نمازیں ادا کرتے اور روزے رکھ لیتے ہیں۔ پھر ان کے پاس پیسہ ہم سے زائد چیز ہے جس سے وہ حج، عمرہ، جہاد اور صدقہ و خیرات بھی کر لیتے ہیں جو ہم محتاج ہونے کی وجہ سے نہیں کر سکتے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تم کرو تو آگے بڑھنے والوں کو پکڑ لو اور تم کو کوئی نہ پا سکے جو تمہارے پیچھے ہے اور تم اپنے زمانہ والوں میں سے سب اچھے بن جاؤ الا یہ کہ وہ بھی یہ کام کرنے لگیں۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر کہہ لیا کرو“ اور بعض روایات کے مطابق ﴿سبحان الله﴾ 33 بار، ﴿الحمد لله﴾ 33 بار اور ﴿الله اكبر﴾ 34 بار کہنا چاہئے (تاکہ سو (100) پورا ہو جائے)“ [بخاري۔ كتاب الصلوٰة۔ باب الذكر بعد الصلٰوة]
اور بعض روایات میں ہے کہ جب مالدار لوگ بھی یہ ذکر پڑھنے لگے تو محتاج لوگ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے کہ یہ ذکر تو مالدار لوگ بھی کرنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کا فضل ہے، جتنا جسے چاہے دے دے۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ایسے ذکر کا کچھ فائدہ نہ ہو گا کہ زبان تو چل رہی ہو اور دل اور باتوں میں مشغول ہو۔
[48] یہ نفخہ صور ثانی کا وقت ہو گا اور پکارنے والا فرشتہ یہ بات کہے گا کہ ”اے مرے ہوئے لوگو! سب اپنی اپنی قبروں سے اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر نکل آؤ اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے لئے پیش ہو جاؤ“ قبروں میں پڑا ہوا ہر شخص یوں محسوس کرے گا کہ کہیں قریب سے ہی یہ آواز آرہی ہے۔ موجودہ سائنسی ایجادات نے اس چیز کو بہت قریب الفہم بنا دیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔
فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] یعنی ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔
فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] یعنی ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔
صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2278-3]
فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔
اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:28] ’ یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ ‘
پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99-97] ’ واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ ‘
پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا
جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ’ یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے ‘
اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:22-21] ’ تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں ‘۔
اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ’ تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ‘
اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:56] ’ یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے ‘ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔
فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔
اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:28] ’ یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ ‘
پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99-97] ’ واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ ‘
پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا
جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ’ یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے ‘
اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:22-21] ’ تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں ‘۔
اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ’ تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ‘
اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:56] ’ یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے ‘ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔
سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»
سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»