ترجمہ و تفسیر — سورۃ ق (50) — آیت 39

فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَ قَبۡلَ الۡغُرُوۡبِ ﴿ۚ۳۹﴾
سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔ En
تو جو کچھ یہ (کفار) بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو
En
پس یہ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کریں اور اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کریں سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے سے پہلے بھی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40،39) ➊ {فَاصْبِرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ طہٰ (۱۳۰) کی تفسیر۔
➋ {وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ:} صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [أَمَرَهُ أَنْ يُسَبِّحَ فِيْ أَدْبَارِ الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا يَعْنِيْ قَوْلَهُ: «وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ» ‏‏‏‏] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏و سبح بحمد ربک…» : ۴۸۵۲] { وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ } کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ تمام نمازوں کے بعد تسبیح پڑھا کریں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس(۳۳) دفعہ سبحان اللہ، تینتیس(۳۳) دفعہ الحمد للہ اور تینتیس (۳۳) دفعہ اللہ اکبر کہے تو یہ ننانوے(۹۹) ہو گئے اور سو (۱۰۰) پورا کرنے کے لیے کہے: [لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ] تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ [مسلم، المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ…: ۵۹۷]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

39۔ 1 یعنی صبح وشام اللہ کی تسبیح بیان کرو یا عصر اور فجر کی نماز پڑھنے کی تاکید ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

39۔ پس (اے نبی!) جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اس پر صبر [45] کیجیے اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ طلوع آفتاب اور غروب سے پہلے تسبیح کیجئے۔
[45] جب کوئی مسلمان اپنے اعداء کی شماتت، تمسخر، تضحیک، ایذا رسانیوں سے تنگ آجائے یا کسی اور وجہ سے مشکلات میں گھر جائے تو اسے صبر و برداشت سے کام لینا چاہئے اور اپنے پروردگار سے لو لگانا چاہئے اسی کو اپنا سہارا سمجھنا چاہئے۔ اسی کی تسبیح و تہلیل اور یاد میں مشغول رہنا چاہئے اس سے اس کی ذہنی کوفت بہت حد تک دور اور ہلکی ہو جائے گی یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین کی جا رہی ہے اور سب مسلمانوں کو بھی متعدد مقامات پر ایسی ہی تلقین کی گئی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔