ترجمہ و تفسیر — سورۃ ق (50) — آیت 29

مَا یُبَدَّلُ الۡقَوۡلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿٪۲۹﴾
میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ہرگز کوئی ظلم ڈھانے والا نہیں۔ En
ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے
En
میرے ہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ﻇلم کرنے واﻻ ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ { مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ:} یعنی میں نے جو تمھیں جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ کر دیا ہے وہ اب بدل نہیں سکتا۔ مزید دیکھیے سورئہ ص (۸۴، ۸۵) کی تفسیر۔ اس کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ میرے پاس کوئی بات کو بدل نہیں سکتا اور نہ یہاں کسی کا جھوٹ چل سکتا ہے، کیونکہ میں تمام باتیں جانتا ہوں۔ اس کے مطابق اشارہ قرین کے یہ کہنے کی طرف ہو گا: «مَاۤ اَطْغَيْتُهٗ» ‏‏‏‏ میں نے اسے سرکش نہیں بنایا۔ (التسہیل) یعنی یہاں نہ مجرم کا جھوٹ چل سکتا ہے نہ اس کے قرین کا، دونوں کفار عنید ہیں اور کفار عنید جو بھی ہے اسے جہنم میں ڈالا جائے گا۔
➋ { وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ:} یعنی اگر میں نے پہلے نہ بتایا ہوتا اور تمھیں جہنم میں ڈالتا تو یہ شدید ظلم ہوتا جو میں اپنے بندوں پر کسی صورت کرنے والا نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۱۸۲) اور سورئہ حج (۱۰)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یعنی جو وعدے میں نے کئے تھے، ان کے خلاف نہیں ہوگا بلکہ ہر صورت میں پورے ہو نگے اور اسی اصول کے مطابق تمہارے لئے عذاب کا فیصلہ میری طرف سے ہوا ہے جس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ میرے ہاں بات بدلی نہیں جا سکتی [34] اور میں اپنے بندوں کے لئے ظالم بھی نہیں۔
[34] قیامت کے دن مطیع اور مطاع کا جھگڑا :۔
یعنی مجرم اور اس کا شیطان ساتھی اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اپنے جرم کو کم سے کم ثابت کرنے کے لئے جھگڑا کریں گے۔ مجرم یہ کہے گا کہ میری گمراہی کا اصل باعث تو یہ میرا شیطان ساتھی تھا۔ اور شیطان کہے گا کہ میرا اس پر بھلا کون سا زور چلتا تھا۔ یہ خود سیدھی راہ سے متنفر اور مجرم ضمیر تھا۔ میں نے تو فقط اس کے دل میں وسوسہ ڈالا تھا جسے ماننے کے لئے یہ پہلے ہی تیار بیٹھا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اب میرے یہاں جھگڑے اور تکرار کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ میں اپنا فیصلہ تمہیں سنا چکا ہوں کہ جیسے بہکنے والا مجرم اور جہنمی ہے ویسے ہی بہکانے والا بھی مجرم اور جہنمی ہے۔ اور یہ میرا ایسا فیصلہ ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی اور چونکہ میں اپنے اس فیصلہ سے تمہیں پہلے ہی متنبہ کر چکا ہوں۔ لہٰذا میری بات نہ مان کر تم نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے میں اپنے بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔