مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ مُّرِیۡبِۣ ﴿ۙ۲۵﴾
جو خیر کو بہت روکنے والا، حد سے گزرنے والا، شک کرنے والا ہے۔
En
جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا شبہے نکالنے والا تھا
En
جو نیک کام سے روکنے واﻻ حد سے گزر جانے واﻻ اور شک کرنے واﻻ تھا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 24 میں تا آیت 26 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ جو مال میں بخل کرنے والا [29]، حد سے بڑھنے والا [30] اور شک میں پڑا ہوا تھا [31]
[29] خیر کے معنی مال و دولت بھی ہے اور بھلائی بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتا تھا نہ اللہ کے حقوق ادا کرتا تھا اور نہ اس کے بندوں کے۔ بس ہر جائز و ناجائز طریقے سے مال جمع کرنے میں ہی مصروف رہتا تھا۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ نہ صرف خود ہی بھلائی کے کاموں سے رکا رہتا تھا بلکہ دوسروں کو بھی روکتا رہتا تھا۔ اس کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ دنیا میں بھلائی کہیں پھیلنے نہ پائے۔ [30] یعنی اپنی ذاتی اغراض اور خواہشات کی خاطر تمام اخلاقی اور قانونی حدود کو توڑنے والا تھا۔ لوگوں کے حقوق پر دست درازیاں کرتا، جائز و ناجائز طریقوں سے مال سمیٹتا اور اچھے کام کرنے والوں کو ستاتا تھا۔
[31] شک کا لفظ یقین اور ایمان کے مقابلہ میں آیا ہے۔ یعنی جن باتوں پر ایمان لانا ضروری ہے ان سب باتوں میں شک میں پڑا ہوا تھا۔ پھر اس شک کے جراثیم دوسروں میں بھی پھیلا رہا تھا۔ جس شخص سے اسے سابقہ پڑتا اس کے دل میں کوئی نہ کوئی شک اور وسوسہ ڈال دیتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔
پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ { جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔ }
مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں { جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔} ۱؎ [مسند احمد:40/3:ضعیف]
پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔
پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ { جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔ }
مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں { جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔} ۱؎ [مسند احمد:40/3:ضعیف]
پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔
جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:22] ’ شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ ‘
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔
پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔