ترجمہ و تفسیر — سورۃ ق (50) — آیت 23

وَ قَالَ قَرِیۡنُہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیۡدٌ ﴿ؕ۲۳﴾
اور اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا یہ ہے وہ جو میرے پاس تیار ہے۔ En
اور اس کا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا کہ یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے
En
اس کا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا یہ حاضر ہے جو کہ میرے پاس تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 23){ وَ قَالَ قَرِيْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌ: قَرِيْنٌ} ساتھی۔ یعنی وہ فرشتہ جو اسے ہانک کر محشر میں لانے پر مقرر تھا کہے گا، اے رب! وہ مجرم جسے لانے پر تو نے مجھے مقرر فرمایا تھا یہ میرے پاس حاضری کے لیے تیار ہے اور وہ فرشتہ جو شہادت کے لیے ساتھ تھا کہے گا، اس کے متعلق جس جس شہادت کی ضرورت ہے وہ یہ ہے جو میرے پاس تیار ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

23۔ 1 یعنی فرشتہ انسان کا سارا ریکارڈ سامنے رکھ دے گا اور کہے گا کہ یہ تیری فرد عمل ہے کو جو میرے پاس تھی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ اور اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا۔ یہ (اس کا اعمال نامہ) میرے پاس تیار موجود [27] ہے۔
[27] اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو ترجمہ سے واضح ہے کہ گواہ فرشتہ مجرم کو پیش کر کے کہے گا کہ مجرم بھی حاضر ہے اور گواہی بھی حاضر ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہانکنے والا فرشتہ اللہ کے دربار میں حاضر ہو کر کہے گا کہ جو مجرم میری سپردگی میں تھا۔ پیشی کے لئے حاضر ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہمارے اعمال کے گواہ ٭٭
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم و کاست حاضر ہے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہو گا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔
«القیا» تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو «تثنیہ» کر دیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا «اضربا عنقہ» تم دونوں اس کی گردن مار دو حالانکہ جلاد ایک ہی ہوتا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی شہادت میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:422/11]‏‏‏‏
بعض کہتے ہیں کہ دراصل یہ نون تاکید ہے جس کی تسہیل الف کی طرف کر لی ہے لیکن یہ بعید ہے اس لیے کہ ایسا تو وقف کی حالت میں ہوتا ہے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب اوپر والے دونوں فرشتوں سے ہو گا، لانے والے فرشتے نے اسے حساب کے لیے پیش کیا اور گواہی دینے والے نے گواہی دے دی تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اسے جہنم کی آگ میں ڈال دو جو بدترین جگہ ہے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔