(آیت 21) {وَجَآءَتْكُلُّنَفْسٍمَّعَهَاسَآىِٕقٌوَّشَهِيْدٌ:”سَآىِٕقٌ“”سَاقَيَسُوْقُسَوْقًا“} سے اسم فاعل ہے، ہانکنے والا جو جانوروں کو یا کسی گروہ کو ہانک کر کسی جگہ پہنچاتا ہے۔ {”شَهِيْدٌ“} شہادت دینے والا۔ یعنی قبر سے نکلتے ہی ہر کافر کے ساتھ ایک فرشتہ ہانکنے والا ہو گا جو اسے ہانک کر محشر کی طرف لے جائے گا اور ایک اس کے اعمالِ بد کی شہادت دینے والا ہو گا۔ یہ فرشتہ کراماً کاتبین میں سے بھی ہو سکتا ہے جو اس کا نامۂ اعمال لے کر شہادت کے لیے حاضر ہو گا۔ گویا مجرم بھی حاضر ہو گا اور اس کے خلاف مکمل شہادتیں بھی حاضر ہوں گی۔ {”كُلُّنَفْسٍ“} سے مراد یہاں ہر کافر و مشرک ہے، کیونکہ اس اہانت اور تذلیل کے ساتھ کفار ہی کو لے جایا جائے گا۔ بعد کی آیات سے بھی یہ بات واضح ہو رہی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
21۔ 1 سَائِق (ہانکنے والا) اور شھید (گواہ) کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام طبری کے نزدیک دو فرشتے ہیں۔ ایک انسان کو محشر تک ہانک کر لانے والا اور دوسرا گواہی دینے والا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
21۔ اس دن ہر شخص اس حال میں آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا [25] اور ایک گواہی دینے والا (فرشتہ) ہو گا
[25] اس سے مراد غالباً وہی دو فرشتے ہیں جو اس کا ریکارڈ ثبت کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک تو اسے پیچھے سے ہانک کر اللہ کے سامنے پیش کر دے گا اور کہے گا کہ مجرم حاضر ہے۔ دوسرا اس کا پوری زندگی کا ریکارڈ سامنے لا حاضر کرے گا۔ یعنی مجرم بھی حاضر اور گواہی بھی حاضر۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔